نفرت پر مبنی جرائم اور نفرت انگیز تقریر پر کوئی سمجھوتہ نہیں : سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پیر کو نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے ایک اہم تبصرہ کیا
نئی دہلی ،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے پیر کو نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے ایک اہم تبصرہ کیا اور عدالت نے کہا کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہندوستان میں نفرت پر مبنی جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیںنفرت انگیز تقریر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔عدالت نے کہا کہ ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔سال 2021 میں 62 سالہ کاظم احمد شیروانی نوئیڈا میں نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنے۔ اسی معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی والی بنچ نے یہ تبصرہ کیا۔سپریم کورٹ نے کہا – نفرت پر مبنی جرائم کو قالین کے نیچے نہیں دبایا جا سکتا، سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر کے بڑھتے ہوئے معاملات پر اظہار تشویش کیا، سماعت شام 6 بجے تک جاری رہی۔عدالت نے کہا کہ اگر ریاست نفرت انگیز تقاریر کے مسئلے کو قبول کرے تو ہی اس کا حل نکل سکتا ہے۔
اس کے علاوہ عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ کیا نفرت انگیز جرم کو تسلیم کیا جائے گا یا اسے دبانے کی کوشش کی جائے گی؟ یہ نفرت کا جرم ہے۔مذہب کے نام پر کسی کو مارا پیٹا جائے تب بھی کوئی کیس نہیں ہوتا اگر کوئی شخص پولیس کے پاس آ کر کہے کہ میں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور میری داڑھی کھینچی گئی اور مذہب کے نام پر گالی دی گئی۔ اس کے بعد بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا تو مسئلہ ہے۔ ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جو بھی تھانے آ رہا ہے اسے ملزم نہ سمجھا جائے۔سال 2021 میں 62 سالہ شخص نے اپنی درخواست میں الزام لگایا تھا کہ 4 جولائی کو وہ نوئیڈا کے سیکٹر 37 میں علی گڑھ جانے والی بس کا انتظار کر رہا تھا۔
جب کچھ لوگوں نے اسے لفٹ کی پیشکش کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسے مسلمان ہونے کا نشانہ بنایا اور گالی گلوچ کرتے ہوئے مارا پیٹا۔ متاثرہ نوئیڈا کے سیکٹر 37 میں پولیس چوکی گئی تھی۔ وہاں کوئی اعلیٰ پولیس افسر نہیں تھا۔ صرف کانسٹیبل موجود تھے۔ اس لیے مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ دہلی دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے جمعہ کو پولس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عدالت نے پولیس کی کارروائی پر سوالات کی بوچھار کی۔ عدالت نے دہلی پولیس سے پوچھا کہ دھرم سنسد 19 دسمبر 2021 کو ہوئی تھی، ایف آئی آر 5 ماہ بعد کیوں درج کی گئی؟



