سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

جو زخم زبان سے لگتا ہےاُسےدنیا کاکوئی مرہم ٹھیک نہیں کرسکتا

انسان کی اگر سیرت اچھی نہ ہو تو اچھی صورت کا بھی کوئی فائدہ نہیں اگر ہم زبان سے اچھے کلمات ادا کریں تو اس کا بہت فائدہ ہے اور اگر بدزبانی کریں تو یہ ہمارے لئے ہلاکت خیزی کا باعث بن سکتی ہے زبان کا درست استعمال بہت بڑی نعمت ہے، ہماری زبان سے نکلنے والے اچھے برے الفاظ ہمارے نامہء اعمال میں درج ہوتے ہیں۔

تلوار سے لگایا زخم بھر سکتا ہے مگر زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا اور بےوقوف انسان جب تک خاموش رہتا ہے اس کی بے وقوفی پر پردہ پڑارہتا ہے،اور جب بولتا ہے تو ظاہر ہوجاتا ہے اس کے بالکل برعکس ایک عقل مند انسان خاموش ہوتا ہے تو وہ غور و فکر کر رہا ہوتا ہے،اور جب و ہ بولتا ہے تو علم و حکمت کے موتی بکھیرتا ہےاور جب وہ دیکھتا ہے تو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔

زبان کے درست استعمال سے اعمال کی اصلاح ہوتی ہے اور یہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنے گا،زبان کے درست استعمال سے اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور آخرت پر ایمان کا ایک مظہر یہ ہے کہ انسان خیر کی بات کرے،زبان کےدرست استعمال پر رسول اکرم نے جنت کی بشارت فرمائی ہے۔

بخاری ومسلم کی متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اکرم نے فرمایا کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔اگر ہم تھوڑا سا غورو فکر کریں اور زبان کے استعمال سے پہلے سوچ لیں کہ ہم زبان سے کیا کہنے جارہے ہیں تو ہم کسی کی دل آزاری سے بچ سکتے ہیں،بولنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کسی کے دل پر تیر تو نہیں چلا رہے ہیں یا اس کے ذریعے کسی کی حق تلفی تو نہیں ہورہی ہے ۔

ہم دنیا میں اپنی زبان کے استعمال سے کسی کا دل دکھا دیتے ہیں اور توبہ وتلافی کی نوبت بھی نہیں آتی کہ موت آ جاتی ہے۔زبان کے ذریعے کسی کے دل پر تیر چلے ہونگے اور اس کی بے عزتی کی ہوگی تو قیامت کے دن سب لوگ کھڑے ہوجائینگے اور اللہ تعالی سے انصاف طلب کر ینگ۔

اس وقت دل شکنی کرنے والوں کے پاس درہم و دینار تو نہیں ہونگے بلکہ اس کے نیک اعمال اس کے کھاتے سے لیےجائینگے اور اس کے خلاف شکایت کنندگان کو دے دیئے جائینگے۔حال یہ ہوگا کہ اس شخص کےنیک اعمال ختم ہوجائینگے لیکن شکایت کنندگان کے مطالبات ختم نہیں ہو نگے۔

ان کے برے اعمال لے کر اس بدبخت کے کھاتے میں ڈال دیئے جائینگے اور اس کو جہنم واصل کر دیاجاۓ گا۔لہذا زبان کےاستعمال سے خدانخواستہ کسی کا دل دکھا ہو تو دنیا میں موقع ہے کہ اس سے معافی تلافی کرلی جا ۓ ، اس کے لئے اپنی انا کو فنا کر نا پڑے گا،اگر ایسا نہیں کیا تو آخرت کی زندگی میں عظیم خسارے کا سامنا ہوگا۔

رسول اکرم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ اس زبان کے غلط استعمال کی وجہہ سے سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائینگے”۔ اس زبان کے ذریعے ہم ایک بہت ہی گھناؤنا کام کرتے ہیں وہ غیبت اور بہتان ہے۔ایک عام برائی جھوٹ بولنا ہے،۔

جھوٹ بول کر بڑے بڑے غبن کئے جاتے ہیں ،جھوٹ منافقین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔آفات لسانی میں دل آزاری بھی شامل ہے ایک حدیث میں حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر ارشاد فرمایا :

اے کعبہ ! تو کس قدر پاکیزہ ہے ، تیری خوشبو کس قدر عمدہ ہے اور توکتنا زیادہ قابل احترام ہے ؛ ( لیکن ) مومن کی عزت و احترام تجھ سے زیادہ ہے ، اللہ تعالی نے تجھ کو قابل احترام بنایا ہے اور( اسی طرح ) مومن کے مال، خون اور عزت کو بھی قابل احترام بنایا ہے اور اسی احترام کی وجہ سے اس بات کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ ہم مومن کے بارے میں ذرابھی بد گمانی کریں۔

لہذا اہل ایمان کواپنے مومن بھائی کو کسی قسم کی تکلیف دینا تو دور کی بات ان کے ساتھ بدگمانی کرنے سے بھی بچنا چاہیے اور تقوی کو لازم پکڑیں اور سیدھی بات کریں یعنی زبان کادرست استعمال کریں اللہ تعالی ہمارے اعمال کی اصلاح فرمادے گا اور گناہوں کو بخش دے گا۔ ان شاء اللہ۔

حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئئی

متعلقہ خبریں

Back to top button