
نئی دہلی ،17؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کووڈ-19 ویکسی نیشن کے بارے میں مرکز نے آج سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دیا ہے کہ کوویڈ-19 ویکسی نیشن لازمی نہیں ہے اور کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ویکسین لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مرکز نے کہا کہ ویکسی نیشن کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔
حکومت نے کوئی بھی ایس او پی جاری نہیں کیا جو کسی بھی مقصد کے لیے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیتا ہو۔ مرکز کی ہدایات میں کسی شخص کی رضامندی کے بغیر زبردستی ویکسی نیشن کا تصور نہیں کیا گیا ہے۔ مرکز نے یہ باتیں ملک بھر میں معذور افراد کے لیے ڈور تو ڈور ویکسی نیشن کی درخواست پر جواب داخل کرتے ہوئے کہیں۔
مرکز نے کہا ہے کہ کوویڈ 19 کی ویکسی نیشن وسیع تر عوامی مفاد میں ہے اور مختلف پرنٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس کے لیے مناسب طریقے سے مشورہ، تشہیر اور بات چیت کی گئی ہے کہ تمام شہریوں کو ٹیکہ لگوانا چاہیے۔ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ٹیکہ لگانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حکومت ہند نے کوئی ایس او پی جاری نہیں کی ہے جو کسی بھی مقصد کے لیے ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دیتا ہو۔ 20 ستمبر 2021 کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کراس سے جواب طلب کیاتھا۔
سپریم کورٹ نے مرکز سے دو ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے کہا تھا کہ سالیسٹر جنرل کو اس معاملے میں عدالت کی مدد کرنی چاہیے۔ مرکزی حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس اہم معاملے میں کیا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ دراصل سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے ایوارا فاؤنڈیشن نے معذور لوگوں کے لیے گھر گھر جا کر ویکسی نیشن کا مطالبہ کیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مراکز میں جا کر ویکسین نہیں لگوا سکتے، ایسی صورت میں حکومت کو گھر گھر جا کر ویکسین لگوانی چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ریاستوں کو نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ پھر اس معاملے میں دو ہفتے کے بجائے دو مہینے تک جواب کا انتظار کرنا ہوگا۔



