
سرکاری اور خانگی اسکولوں میں داخلے کیلئے کسی ریکارڈ کی ضرورت نہیں — محکمہ تعلیم کے نئے رہنما خطوط جاری
کسی بھی بچّے کا اسکول میں داخلہ نہ روکا جائے اور ہر صورت میں داخلہ فراہم کیا جائے۔
حیدرآباد: قانونِ تعلیم برائے لازمی و مفت تعلیم میں سرکاری اور خانگی اسکولوں میں داخلے کے لیے نئے رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بچوں کے داخلے کے لیے کسی قسم کی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نہ قومی شناختی کارڈ، نہ پیدائشی سرٹیفکیٹ، اور نہ ہی شناخت سے متعلق دیگر ریکارڈ۔محکمۂ تعلیم کے مطابق داخلے کے وقت آدھار نمبر، ٹرانسفر سرٹیفکیٹ اور رہائشی ریکارڈ کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی بچّے کا اسکول میں داخلہ نہ روکا جائے اور ہر صورت میں داخلہ فراہم کیا جائے۔
ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن نے واضح کیا کہ اسکولوں کو داخلے کے لیے پیدائشی ثبوت، آدھار کارڈ یا دیگر تفصیلات مانگنے کی اجازت نہیں ہے۔ خانگی اور سرکاری اسکول، RTE ایکٹ کے تحت، بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کے پابند ہیں اور داخلہ دینے سے انکار پر حکومت کی جانب سے کارروائی کی جا سکتی ہے۔
کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری و خانگی اسکولوں میں والدین سے غیر ضروری کاغذات کا مطالبہ کرنا خلافِ قانون ہے۔ کمیشن نے تجویز کیا کہ داخلے کے وقت کسی بچّے یا والدین کو دستاویزات کی عدم موجودگی پر پریشان نہ کیا جائے۔
قانونِ تعلیم برائے لازمی و مفت تعلیم 2009 کی دفعہ 5(3) کے تحت حکومت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی بچے کا داخلہ بغیر کسی ریکارڈ کے کیا جا سکتا ہے۔ صرف والدین کی زبانی تصدیق ہی کافی ہے۔
محکمۂ تعلیم نے اسکولوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے داخلے کے وقت کاغذات کا مطالبہ کیا یا بچوں کو واپس کیا، تو ان کے خلاف انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ اسکولوں میں داخلے کے عمل کو آسان اور والدین کے لیے سہل بنادیا جائے۔



