فلسطینی ریاست کا مسئلہ حل ہوئے بغیر اسرائیل سے بات چیت نہیں ہو:شہزادہ فیصل
ریاض،یکم نومبر (ایجنسیز)
سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بڑا معاہدہ طے نہ ہونے کے باوجود کچھ معاہدوں پر کافی تیز پیش رفت کر سکتا ہے: سعودی وزیر خارجہانہوں نے کہا کہ دفاعی تعاون کے کچھ اہم معاہدے بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔گزشتہ ماہ ڈی فیکٹو حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ریاض ممکنہ طور پر واشنگٹن کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ایک بڑا معاہدہ طے نہ ہونے کے باوجود کچھ دو طرفہ معاہدوں پر کافی تیزی سے پیش رفت کر سکتا ہے۔
سعودی عرب گزشتہ سال سے امریکہ کے ساتھ کسی دفاعی معاہدے کے ساتھ ساتھ سویلین نیوکلیئر پروگرام میں معاونت کے لیے سخت سودے بازی کر رہا ہے۔اس بڑے معاہدے کے ایک حصے کے طور پرسعودی حکومت اسرائیل کو پہلی بار تسلیم کر ے گی۔ریاض میں فیوچر انوسٹمنٹ انیشی ایٹو فورم کے ایک سیشن کے دوران، انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر شعبوں میں معاہدوں پر جلد پیش رفت ہو سکتی ہے۔شہزادہ فیصل نے کہا کہ در اصل ہم امریکہ کے ساتھ متعدد دو طرفہ معاہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے الفاظ میں’ ’ان میں سے کچھ پر ہم شاید بہت تیزی سے پیش رفت کر سکتے ہیں، اور کچھ پر ہم کام کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ جو تجارت، آرٹیف یشل انٹیلی جنس، وغیرہ سے متعلق ہیں، جن میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی تعاون کے کچھ اہم معاہدے بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔ شہزادہ فیصل نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں اگلے ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات کے فاتح کے حوالے سے ریاض کی کوئی ترجیح نہیں ہے،ظاہر ہے، ہم ٹرمپ کے ساتھ پہلے کام کر چکے ہیں، اس لیے ہم انہیں جانتے ہیں، اور ہم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے کام کرنے کا کوئی راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔
لیکن ظاہر ہے کہ ہم اس ٹیم کو بھی جانتے ہیں جو فی الحال بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ نائب صدر (کاملا) ہیرس اس ٹیم کا حصہ ہیں، اور ہم ایک بہت مضبوط ورکنگ ری لیشن شپ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ تو اس لیے ہماری قطعی طور پر کوئی ترجیح نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ یقینامختلف ہوں گے، آیا ان میں سے کوئی ایک یا دوسرا بہتر ہوگا، میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔



