سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

اردو میں غیر افسانوی ادب پر ایک نظر

انسان اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی زبان استعمال کرتا ہے۔

ہر روز ہم نیوز پیپر پڑھتے ہیں۔ اس میں دیے گئے مضامین کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جو مضامین ہم پڑھتے ہیں وہ مضامین افسانوی ادب سے تعلق رکھتے ہیں یا غیر افسانوی ادب سے؟ آج ہم کچھ ایسے ہی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ آج میں جس عنوان کو قلم بند کر رہی ہوں وہ اردو میں غیر افسانوی ادب پر ایک نظر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین کو اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ان کے معلومات میں اضافہ ہوگا۔

آئیے اب چلتے ہیں اپنے عنوان کی طرف!

ہر انسان اپنے جذبات اور خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی زبان استعمال کرتا ہے۔ اور پھر ایسی زبان میں اپنے غم و غصہ محبت و نفرت، ذوق و شوق اور حسرت و آرزو، غرض ہر طرح کے باطنی خواہشات و جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ جب انسان ان ہی خیالات کو تحریری شکل دیتا ہے تو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے ادب کے کسی نہ کسی فن پارے کا سہارا لیتا ہے۔ ادب بھی فنون لطیفہ کی ایک اہم شاخ ہے۔ ادب حسن خیال ، مواد کی ترتیب اور الفاظ کے مخصوص استعمال کا حسین اظہار ہے۔ زندگی کا ہر پل ہر لمحہ اور ہر واقعہ ادب کا موضوع بن سکتا ہے۔ ہر لکھنے والا اپنی فکر اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عام زندگی کے بجائے عمدہ لفظیات مناسب جملے ، موزوں فقرے اور ہدور کے اظہار کا منفرد انداز اختیار کر کے تخلیق کے عمل سے گزرتا ہے۔ تخلیقی ادب کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب۔ اظہار کے دو طریقے دنیا میں رائج ہیں۔ ایک طریقہ ایسا ہے کہ جس میں انہونی باتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ ان ہونی واقعات اور ان ہونی خیالات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ ایسے واقعات کے ذکر کے لیے انسان اپنی جس ذہنی قوت کا استعمال کرتا ہے ایسے قوت متخیلہ“ کہا جاتا ہے۔ خیال کی اڑان کافی بلند اور بے کراں ہوتی ہے۔ پرستان کی سیر نئی نئی دنیاؤں کی منظر کشی ، عجیب و غریب حالات کا ذکر نت نئے قصے اور کہانیاں گھڑنا۔ واقعات سے ان ہونی واقعات کو جنم دینا۔ ایسی خصوصیات ہیں۔ جن کی وجہ سے قوت متخیلہ کی کارفرمائی نمایاں ہوتی ہے۔ قوت متخیلہ کے زور پر افسانوی نثر نے ادب کے سرمایہ کو وسیع ترکیا۔

(۱) افسانوی ادب :۔افسانوی ادب میں فرضی کرداروں اور فرضی واقعات کا تانابان جوڑ کر قصے کہانیوں کے رنگ میں جو انسانی تہذیب کا قدیم ترین وصف ہے۔ اس کو بیان کیا جائے تو اس طرح کا ادب افسانوی ادب کہلائے گا۔ چنانچہ داستان، ناول، افسانہ، ڈرامااور ناولٹ جیسی تمام اصناف کو افسانوی نثر کا درجہ حاصل ہے۔
(۲) غیر افسانوی ادب:اس میں دنیا کی حقیقتوں ، مسائل، تجربات، مشاہدات اور احساسات کو قصہ پن کے بغیر ادب اور فن کے تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا جائے تو ایسی نثر غیر افسانوی نثر کہلاتی ہے۔

غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان اور قصہ کہانی ۔ کے بجائے حقائق کا ذکر کرنا ہو تو تخلیق کا رقوت آخذہ کو بروئے کار لاتا ہے۔ غیر افسانوی ادب میں قصہ بیان کرنے کے بجائے ادیب زندگی میں در پیش حقیقی واقعات پر اپنے احساسات اختیار کردہ مخصوص صنف کی ہیئت کے دائرہ کار میں پیش کرتا ہے۔ غیر افسانوی نثر میں مقالہ مضمون، سوانح ، خاکہ، سفرنامہ، خودنوش ، سوانح ، آپ بیتی ، طنز و مزاح ، مکتوب، انشائیہ اور ر پور تا ژجیسی اصناف کو پیش کیا جاتا ہے۔

غیر افسانوی ادب کی طرف توجہ :۔قصہ گوئی کا فن قدیم ترین فن ہے۔ داستانوں سے ناول تک ہمارے ادب نے ایک طویل سفر طے کیا اور طویل عرصے تک اردو ادب پر افسانوی نثر کا غلبہ رہا، داستانوں کی صورت میں اردو کا افسانوی ادب برسوں ترقی کرتا رہا۔

ہندوستان میں انگریزوں کی آمد اور جدید علوم وفنون اور نئے خیالات کے فروغ کے نتیجے میں غیر افسانوی ادب ترقی کرنے لگا۔ فورٹ ولیم کالج کلکتہ اور فورٹ سیٹ جان کالج مدراس کے توسط سے افسانوی ادب کو فروغ حاصل ہوا۔ اور اردو ادب پر داستانوں کی حکمرانی رہی۔ لیکن ۱۸۲۴ء میں دلی کالج کے قیام کے بعد غیر افسانوی ادب کی طرف توجہ دی گئی ۔ ماسٹر رام چندر اور ماسٹر پیارے لال نے پہلی مرتبہ ہر قسم کی حقیقتوں کی موضوعاتی وضاحت کی جانب توجہ دی۔ جس کی وجہ سے مضمون نگاری کی صنف کا آغاز ہوا۔ غیر افسانوی نثر کی شروعات میں مضمون کو اولیت کا درجہ حاصل ہے۔ مضمون نگاری کے علاوہ سفر نامہ کی روایت کا بھی آغاز ہوا چنانچہ حمد یوسف کمبل پوش نے عجائبات فرنگ “ لکھ کر غیرافسانوی ادب میں ایک نئی صنف کا آغاز کیا۔ مرزا غالب کے ابتدائی خطوط کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کی نمائندگی ۱۸۵۷ء سے قبل ممکن ہوگی ۔ جس کے بعد سے غیر افسانوی اصناف آپ بیتی سوانح اور خود نوشت سوانح کو فروغ حاصل ہونے لگا۔

غیر افسانوی ادب کے ذریعے نثر کو فروغ دینے میں سرسید تحریک نے موضوعات اور اسالیب دونوں اعتبار سے بے حد اہم کردار نبھایا۔ انشائیہ خاکہ مقالہ اور رپورتاژجیسی نثری اصناف کے غیر افسانوی ادب کے سرمائے میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اودھ پنچ اور اس کے معاصرین کے توسط سے طنزیہ و مزاحیہ تحریروں کو کافی فروغ ہوا۔ جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ تفسیر کے تمام پیرا یہ اظہار میں طنز و مزاح نگاروں نے اپنے جوہر دکھائے ۔ آج غیر افسانوی ادب میں نثر کی معروف و غیر معروف بے شمار اصناف رائج ہو چکی ہیں۔ ان اصناف کے توسط سے ادب حقائق زمانہ سے آشنا ہوا۔

پہلی جنگ آزادی سے قبل کی غیر افسانوی اصناف:۔ اردو شاعری کی طرح اردو نثر کا ابتدائی دور بھی دکنی سے وابستہ ہے۔ ہندوستان کے جنوبی ہند کے علاقے دولت آباد میں پائے تخت کی تبدیلی ۱۳۲۷ء سے لے کر دکن کی پانچ مسلم سلطنتوں کے قیام اور اورنگ زیب کی جانب سے ان کے خاتمے تک دکنی زبان کا دور دورہ رہا۔ دکنی زبان میں شاعری کی مختلف اصناف کے علاوہ افسانوی نثر وغیرہ افسانوی نثر کا ذکر ملتا ہے۔ دکن میں صوفیانہ تشریحات اور اسلامی قوانین و اصولوں کو سمجھانے کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ وہ غیر افسانوی ادب کی بنیاد ہے۔

خدا کی ذات اس کی صفات ، نور اور نور کے جلوے اور اسلام کے سربستہ رازوں پر سے پردہ اٹھانے کا کام دکن کے بزرگانِ دین اور صوفیاء کرام نے انجام دیا۔ چنانچہ دکن میں غیر افسانوی ادب کے ابتدائی نقوش رسالوں کی صورت میں دستیاب ہیں۔ جن میں سے کئی شائع بھی ہو چکے ہیں اور بے شمار قلمی نسخوں کی شکل میں مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ دکن میں تحریر کردہ صوفیانہ، اسلامی، شرعی ، فقہ و عقائد کی تشریح کرنے والے تمام رسالے مذہبی ادب کا سرمایہ ہیں۔ لیکن ان میں جہاں غیر افسانوی تخلیقی ادب کے ابتدائی نقوش دیکھے جاسکتے ہیں۔ طویل عرصے تک اردو میں افسانوی نثر کا چلن عام رہا، اور پھر غیر افسانوی ادب کے ابتدائی نقوش بھی دکنی رسالوں سے ظاہر ہونے لگے ۔

ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط اور اس کی جانب نئے علوم وفنون کے فروغ کی کوشش کی وجہ سے غیر افسانوی ادب کے پھلنے پھولنے کا موقع فراہم ہوا۔ ان کے ابتدائی منتشر اور خام نمونوں کے بعد اردو کی پہلی غیر افسانوی صنف " مضمون نگاری کو باضابطہ فروغ حاصل ہوا۔

مضمون :۔کسی بھی عنوان پر معلومات یکجا کر کے اس کے ذیلی موضوعات پر روشنی ڈالتے ہوئے دلچسپ اور جامع مواد کو ترتیب اور تسلسل وروانی کے ساتھ پیش کرنا ” مضمون کہلاتا ہے۔ مضمون میں ادب، سائنس، مذہب ، ٹیکنالوجی ، امراض، علاج، سیاست، معاشرت غرض ہر موضوع پر خیالات کا اظہار ہوتا ہے۔ مختلف موضوعات معلومات فراہم کر کے اکثر اسے ایک ہی نشست میں مطالعہ کے قابل بنایا جاتا ہے۔

اردو میں مضمون نگاری کا آغاز :اردو میں مضمون نگاری کی روایت انگریزی ادب کی دین ہے۔ چنانچہ ۱۸۲۴ء میں جب دلی کالج قائم کر کے انگریزوں نے علوم وفنون کی ترقی پر توجہ دی تو اس کا کالج سے وابستہ ماسٹر رام چندر نے سب سے پہلے مضمون نگاری کی بنیاد رکھی۔ جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماسٹر پیارے لال اور پھر شمس العلماء کا اللہ نے مضمون نگاری کی روایت کو فروغ دیا۔ لیکن جیسا کہ ڈاکٹر وحید قریشی نے کہا ہے۔ دلی کالج کے تربیت یافتہ لوگ مقالات اور (Essay) کو ایک ہی نام دیتے تھے۔

انشائیہ ہو کہ مقالہ یا مضمون ۔ ابتدا میں اسے مضمون ہی کہتے تھے۔

سرسید اور ان کے نامور رفقا کی تحریروں میں مضمون کی صفات نمایاں نظر آتی ہیں۔ اخبارات کے توسط سے اردو مضمون نویسی کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی مضمون کو غیر افسانوی ادب میں کب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اخبارات ، رسائل اور جرائد کے علاوہ کتابی شکل میں اکثر مضامین کی اشاعت عمل میں آئی ہے۔ …(باقی اگلے ہفتے ملاحظہ فرمائیں)

عملیت تبحر، مدلل اظہار کے ساتھ حقیقت پسندی کے جذبات واحساسات کا آمیزہ مضامین کی مقبولیت کا باعث ہے۔ مضمون کا قاری کسی محدود شعبے یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس صنف کی تحریریں ایک جانب علمی ضروریات کی تکمیل کا باعث ہیں۔ تو دوسری  طرف جمالیاتی ذوق اور ادبی شوق کی تسکین کا بھی ذریعہ میں۔

اردو میں سفرنامہ کی روایت :۔

اردو میں داستانوی سفرناموں کی روایت عام تھی۔ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد سفر ناموں میں حقائق پر مبنی واقعات ، تجربات ، مشاہدات اور چشم دید مناظر کا ذکر کیا جانے لگا۔ بادشاہوں کے مقربین خاص نے روزنامچوں اور ڈائریوں کی شکل میں سفرنامے لکھے۔ روایتی قصے کہانیوں کی انداز سے گریز کرتے ہوئے حقائق کی پیشکشی کی وجہ سے سفرنامه کو غیر افسانوی صنف ادب میں خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ اردو میں سفرنامے کی روایت کا آغاز ۱۸۲۷ء میں ہوا جب کہ محمد یوسف خاں کمبل پوش نے عجائبات فرنگ“ لکھی۔ اس کتاب میں سفر انگلستان کے دلچسپ حالات بیان کے گئے ہیں۔ اس کے بعد سرسید احمد خانے” مسافران لندن اور شبلی نعمانی نے سفر نامہ مصر و روم و شام تحریر کیا جنہیں اردو کے ابتدائی سفر ناموں کا موقف حاصل ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی آمد و رفت کے ذرائع میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ سیاحت کے شوقین علم دوست حضرات نے سفر ناموں کے ذریعہ مختلف شہروں اور ملکوں کسا نام آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کیا کہ ن میں تاریخی حقائق ، تہذیبوں کی عکاسی کے ساتھ لطف زبان کی نادر مثالیں یکجا ہوگئیں۔ سفرنامہ خالص غیر افسانوی نثر ہے۔ لیکن فکشن کی تمام اصناف کے اوصاف یعنی داستان کی داستان طرازی ناول کی فسانے کی چونکا دینے والی کیفیتیں اور ڈراما کی منظر کشی اس میں ملتی ۔ ہے۔ دراصل سفرنامے اس کے لکھے ولاے کے شوق اور مزاج کی تصویر اور ترجمان ہوتے ہیں۔

اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز :

جو لوگ ایک دوسرے سے فاصلوں پر رہتے ہیں۔ تبادلہ خیال کے لیے اور خیریت جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ ماضی میں نظروں سے دور رہنے والوں کے آپسی تبادلہ خیال کا ایک ہی ذریعہ خط تھا۔ مختلف النوع جذبات ، احساسات ، خیالات اور اطلاعات تحریر کر کے اس کی ترسیل کا انتظام کرنا مکتوب نگاری کی خصوصیات ہیں۔ مکتوب نگار نہ صرف یہ کہ خط میں اپنے حالات کا ذکر کرے گا بلکہ جس کے نام خط لکھا گیا ہے اس کے حالات سے واقفیت حاصل کرنے کا جذبہ بھی مکتوب نگاری میں کارفرما رہتا ہے۔ گویا مکتوب نگاری دو انسانوں کے مابین تعلقات کی ترجمانی کرنے والی ایک ایسی صنفِ نثر ہے

جس میں غیر افسانوی انداز میں خیالات کی ترسیل ہوتی ہے اور حقیقت حال کا بیان ہوتا ہے۔ اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز اونچے معیار سے یعنی مرزا غالب کے خطوط سے ہوا۔ مرزا غالب نے اردو کے ابتدائی خطوط ۱۸۴۱ء میں تحریر کیے۔ اس سے قبل فارسی میں مکتوب نگار کا چلن عام تھا۔ مرزا غالب کے بعد اس صنف نے کافی ترقی کی۔ چنانچہ مولانا حالی ، سرسید احمد خاں محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیراحمد اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے نامورادیوں کے خطوط شائع ہو چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو میں مکاتب نگاری کی صنف قدیم اور توانا ہے۔ دور حاضر میں ترسیل کے نئے ذرائع پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود مکتوب نگاری کا لطف اور سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔

اردو کی آپ بیتی نویسی :۔

خود پر بیتے ہوئے حالات کے ذکر کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ بن باس کی زندگی ، قید کے حالات ، نظر بندی کے دور کے حالات اور واقعات کا ذکر بھی آپ بیتی کے ذریعے ممکن ہے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر کے دوران ہندوستان کے باشندوں پر جو مصائب گزرے انہیں ” آپ بیتی کی صور میں بیان کیا گیا۔ محمد جعفر تھا میسری کی کتاب ” کالا پانی کو اردو کی اولین آپ بیتی کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ فنی اعتبار سے آپ بیتی ایک ایسی تحریر ہے جس میں خود پر گزرے ہوئے اچھے اور برےحالات کے علاوہ صدمات اور تاثرات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔

آپ بیتی نویسی ایک ایسی غیر افسانوی صنف نثر ہے جس میں جذبات واحساسات اور ذاتی تاثرات کی ایک دنیا موجود ہوتی ہے۔ آپ بیتی لکھنے والے اپنے حالات اور دلچسپ واقعات کے تانے بانے میں تاثرات کو گونڈھ کر خود نوشت کا مواد تیار کرتے ہیں۔ وہ حقائق بیان کیے جاتے ہیں جن سے آپ بیتی لکھنے والا گزارا ہے۔ گویا آپ بیتی میں نہ تو قصہ کہانی کا گزر ہوتا ہے اور نہ فرضی واقعات کا بیان ممکن ہے۔ آپ بیتی کے ذریعہ کوئی بھی انسان اپنی زندگی کی صداقتوں اور گزرتے ہوئے حالات کی موزون عکاسی کر سکتا ہے۔ اردو نثر میں آپ بیتی ایک ایسی صنف ہے جو ہر دور میں رائج رہی اور آج بھی اس کاسلسلہ جاری ہے۔

خود نوشت سوانح :

اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے حالات بقلم خود تحریر کرے اور حقائق کی روشنی میں حالات پیش کرے تو ایسی تحریر خود نوشت سوانح قرار دی جائے گی ۔ خود نوشت سوانح کی تحریر میں چونکہ خود کا تب اپنی زندگی کے حالات بیان کرتا ہے۔ اس لیے اپنے بچپن اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے کسی نہ کسی وسیلہ کا استعمال ضروری ہے یعنی ایک خود نوشت سوانح نگار کوممکن ہے کہ بچپن کے حالات صداقت کے ساتھ یاد نہ ہوں اس لیے اسے کسی مصدقہ حوالے کے ساتھ بچپن کے حالات بیان کرنا ہوگا۔

خود نوش سوانح ایک غیر افسانوی صنف ہے۔ جس میں کوئی شخص اپنے حافظہ کے بل بوتے پر ہی نہیں بلکہ اس کی زندگی کے بارے میں کسی طرح کا کوئی مواد موجود ہو تو اس سے استفادہ کر کے شخصی تاثرات کے ساتھجس میں غیر افسانوی انداز میں خیالات کی ترسیل ہوتی ہے اور حقیقت حال کا بیان ہوتا ہے۔ اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز اونچے معیار سے یعنی مرزا غالب کے خطوط سے ہوا۔ مرزا غالب نے اردو کے ابتدائی خطوط ۱۸۴۱ء میں تحریر کیے۔ اس سے قبل فارسی میں مکتوب نگار کا چلن عام تھا۔

مرزا غالب کے بعد اس صنف نے کافی ترقی کی۔ چنانچہ مولانا حالی ، سرسید احمد خاں محمد حسین آزاد، ڈپٹی نذیراحمد اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے نامورادیوں کے خطوط شائع ہو چکے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو میں مکاتب نگاری کی صنف قدیم اور توانا ہے۔ دور حاضر میں ترسیل کے نئے ذرائع پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود مکتوب نگاری کا لطف اور سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔

اردو کی آپ بیتی نویسی :۔

خود پر بیتے ہوئے حالات کے ذکر کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ بن باس کی زندگی ، قید کے حالات ، نظر بندی کے دور کے حالات اور واقعات کا ذکر بھی آپ بیتی کے ذریعے ممکن ہے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر کے دوران ہندوستان کے باشندوں پر جو مصائب گزرے انہیں ” آپ بیتی کی صور میں بیان کیا گیا۔ محمد جعفر تھا میسری کی کتاب ” کالا پانی کو اردو کی اولین آپ بیتی کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے۔ فنی اعتبار سے آپ بیتی ایک ایسی تحریر ہے جس میں خود پر گزرے ہوئے اچھے اور برےحالات کے علاوہ صدمات اور تاثرات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔

آپ بیتی نویسی ایک ایسی غیر افسانوی صنف نثر ہے جس میں جذبات واحساسات اور ذاتی تاثرات کی ایک دنیا موجود ہوتی ہے۔ آپ بیتی لکھنے والے اپنے حالات اور دلچسپ واقعات کے تانے بانے میں تاثرات کو گونڈھ کر خود نوشت کا مواد تیار کرتے ہیں۔ وہ حقائق بیان کیے جاتے ہیں جن سے آپ بیتی لکھنے والا گزارا ہے۔ گویا آپ بیتی میں نہ تو قصہ کہانی کا گزر ہوتا ہے اور نہ فرضی واقعات کا بیان ممکن ہے۔ آپ بیتی کے ذریعہ کوئی بھی انسان اپنی زندگی کی صداقتوں اور گزرتے ہوئے حالات کی موزون عکاسی کر سکتا ہے۔ اردو نثر میں آپ بیتی ایک ایسی صنف ہے جو ہر دور میں رائج رہی اور آج بھی اس کاسلسلہ جاری ہے۔

خود نوشت سوانح :

اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے حالات بقلم خود تحریر کرے اور حقائق کی روشنی میں حالات پیش کرے تو ایسی تحریر خود نوشت سوانح قرار دی جائے گی ۔ خود نوشت سوانح کی تحریر میں چونکہ خود کا تب اپنی زندگی کے حالات بیان کرتا ہے۔ اس لیے اپنے بچپن اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے کسی نہ کسی وسیلہ کا استعمال ضروری ہے یعنی ایک خود نوشت سوانح نگار کوممکن ہے کہ بچپن کے حالات صداقت کے ساتھ یاد نہ ہوں اس لیے اسے کسی مصدقہ حوالے کے ساتھ بچپن کے حالات بیان کرنا ہوگا۔ خود نوش سوانح ایک غیر افسانوی صنف ہے۔ جس میں کوئی شخص اپنے حافظہ کے بل بوتے پر ہی نہیں بلکہ اس کی زندگی کے بارے میں کسی طرح کا کوئی مواد موجود ہو تو اس سے استفادہ کر کے شخصی تاثرات کے ساتھ اپنی سوانح حیات ترتیب دیتا ہے۔ خود نوشت سوانح ، ساری زندگی کے حالات پر محیط کتابی شکل میں پیش ہوگئی ہے۔ یا چند قابل ذکر واقعات کے ساتھ ایک مضمون کی شکل عام طور پر علما، دانشور ، اہل قلم ، سیاست داں اور نامور اشخاص اپنی زندگی کے حالات کے دلچسپ پہلوؤں کو خود نوشت سوانح میں قلم بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خود نوشت سوانح اور آپ بیتی میں فرق :۔

خود نوشت سوانح اور آپ بیتی میں بنیادی طور پر فرق یہ ہے کہ آپ بیتی کسی مخصوص واقعہ یا حالات کی نمائندہ ہوتی ہے۔ جب کہ خود نوشت سوانح میں پیدائش سے لے کر سوانح قلم بند کرنے کے دور تک کے تفصیلی حالات کا ذکر ہوتا ہے۔ عالمی زبانوں میں منظوم آپ بیتی اور منظوم خود نوشت سوانح لکھنے کا چلن عام ہے اور اردو میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے حالات میں خود نوشت سوانح کی صنف کو فروغ حاصل ہوا۔ جس طرح محمد جعفر تھا میسری کی کتاب ”کالا پانی“ کو اردو کی اولین آپ بیتی کا ذریعہ حاصل ہے۔ اسی طرح بعض مورخین کا خیال ہے کہ علامہ ظہیر دہلوی کی تصنیف ” ایام غدر کو اردو کی اولین خود نوشت سوانح کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے ۱۸۵۷ء سے پہلے اردو میں خود نوشت سوانح لکھی گئی۔

ہندوستان کی جد و جہد آزادی میں حصہ لینے والے بیشتر سیاسی رہنماوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات تحریر کی اور آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔ مہاتما گاندھی نے اپنی خود نوشت سوانح انگریزی میں لکھی Life and Experiments with Truth“ اس کا اردو ترجمہ ” تلاش حق کے زیر عنوان کیا گیا۔ اردو میں طبع زاد خود نوشت سوانح عمریوں کی کوئی کمی نہیں اور اس کے ساتھ ہی ترجمہ شدہ سوانح عمریاں بھی کثرت سے لکھی گئی ہیں۔ خود نوشت سوانح “ ایک ایسا فن ہے جس میں انسان اپنے قلم سے اپنی زندگی کے حالات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا نقطہ نظر اور اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کر سکتا ہے۔

انشائیہ کی ابتدا۔

مضمون کا ایک ایسا ہلکا پھلکا انداز جس میں بے ساختہ بے تکلفا نہ کسی موضوع پر اظہار خیال کیا جائے تو اسے انشائیہ قرار دیا جاتا ہے۔ انشائیہ کی تعریف میں کئی کتا بیں لکھی جاچکی ہیں۔ انشائیہ کے لیے انگریزی میں Essay کا لفظ مروج ہے۔ دکنی میں لکھی گئی وجہی کی نثری کتاب ”سب رس” کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ انشائیہ کے ابتدائی نقوش اس میں موجود ہیں۔ بعض بعض کا خیال ہے کہ یہ صنف سرسید کے انگلستان کے سفر کے بعد عالم وجود وجود من آئی ۔ کیونکہ سرسید نے لندن کے اخبارات اور انگریزی رسالوں کے مطالعہ کے بعدہ محسوس کیا کہ مضمون کے ذریعے بھی سماجی اور ثقافتی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اور جب وہ لندن سے ہندوستان لوٹے تو Essay کو اردو میں رواج دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے زمانہ تہذیب الاخلاق میں اپنے بے شمار مضامین شائع کیے جنہیں بے تکلفی سے ساختہ پن اور فکری گہرائی موجود تھی۔

یہی مضامین اپنے مواد اور متن کے اعتبار سے ارو کے بہترین انشائیے قرار دیے گئے ۔ گو کہ انشائیوں کے ابتدائی ” نقوش سرسید سے پہلے بھی ملتے ہیں ۔ لیکن با قاعدہ انشائیہ نگاری کا آغاز سرسید سے ہوا اور سرسید نے جس قدر انشائیے لکھے انہیں ” مضامین سرسید کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ سرسید کے بعد نذیر، ناصر ، فراق دہلوی، خواجہ حسن نظامی اور دوسرے قلم کاروں نے انشائیہ کی صنف میں مزید اضافے کیے۔ انشائیہ ایک غیر افسانوی صنفِ نثر ہے جس میں انشائیہ نگار کے تجربات اور احساسات کا دخل ہوتا ہے۔

سوانح نگاری:۔

اردو میں سوانح نگاری سے قبل تذکرہ کی صنف کو شہرت حاصل تھی۔ کسی بھی نامور شخص کی زندگی کے حالات تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں پیش کرنے کا رواج عام نہ تھا۔ خواجہ الطاف حسین حالی نے سوانح نگاری کی بنیاد رکھی۔ سوانح میں کسی مشہور شخص کی زندگی کے محاسن اور معائب دونوں بیان کیے جاتے ہیں۔

حالی کو اردو کے اولین اور سب سے بہترین سوانح نگار کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے حیات سعدی “ لکھ کر اردو ادب میں سوانح کی بنیاد رکھی۔ حالی کے بعد شبلی اور پھر ان کے بع اردو کے پیشتر ادیبوں نے سوانحی ادب کی ترقی میں حصہ لیا اربے شمار سوانحی کتا بیں عالم وجود میں آئیں۔

اردو میں خاکہ نگاری:۔

خاکہ نہایت مختصر سے عرصے میں اُردو ادب کی اہم صنف بن گیا ہے۔ اختصار نویسی کے اس دور میں خاکے سوانح پر ترجیح دی گئی ہے۔

انگریزی ادب میں خاکے لیے Sketech کا لفظ مروج ہے۔ خاکہ در حقیقت ایک مضمون کی حیثیت رکھتا ہے جس
طرح مضمون میں مختلف موضوعاتی نکات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح خاکہ میں کسی ایک شخصیت کی زندگی کے اہم نکات کی دلچسپ نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے۔ جس کے ذریعہ شخصیت کا ناک نقشہ عادت و اطوار، کردار اور کارناموں کے اہم نقوش واضح کیے جاتے ہیں۔
اردو میں خاکہ نگاری کے ہلکے نقوش سب سے پہلے تذکروں میں مل جاتے ہیں۔ محمد حسین آزاد نے اپنی مشہور تصنیف آب حیات میں تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں شامل مختلف شخصیتوں کے حالات میں خاکوں کے ادھورے نقوش تو ابھرتے ہیں۔ لیکن مرقع کاری کا انداز مفقود ہے۔ مرزا نا فرحت اللہ بیگ کی ڈپٹی تو پر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی“ کو اردو کی پہلی طویل خاکہ نگاری کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔

خاکہ کی صنف کو فنی اور اصولی طور پر اردو میں رواج دینے والے ادبیوں سید مولوی عبدالحق کا شمار ہوتا ہے۔ انکی تصنیف چند ہم عصر اردو میں خاکہ نگاری کے اولین نمونوں میں سے ہے۔ مولوی عبدالحق کے بعد * خا* کہ نگاری کی صنف کو فروغ حاصل ہوا۔ رشید احمد صدیقی نے بھی گنج ہائے گراں مایہ، شاہد احمد دہلوی نے دلی کی اہم شخصیتیں اور اشرف صبوحی نے دلی کی عجیب و غریب شخصیں“ لکھ کر خاکہ نگاری کے فروغ میں اپنی خدمات کا اظہار کیا۔ اسکے بعد ترقی پسند مصنفین کے توسط سے خاکہ نگاری کی صنف کو عروج حاصل ہوا۔ اور دور حاضر میں یہ صنف اردو نثر کی ایک مایہ ناز صنف کا درجہ رکھتی ہے۔

رپورتاژ:

جلسہ محفل، کانفرس سمپوریم ، مشاعرہ یا اس نوبت کی دیگر تقاریب کی مکمل کاروائی قلمبند کی جائے تو اسے روداد کہتے ہیں۔ لیکن کوئی ادیب اسی تفصیل کو ادبی چاشنی کے ساتھ چشم دید واقعات کے طور پر شخصی تاثرات شامل کر کے پوری دلچسپیاں پیدا کرتے ہوئے بیان کرے تو اسے رپورتاژ کہتے ہیں۔ رپورتاژ میں ادیب کی ادبی محفل، مشاعرہ سمپوزیم یا پروگرام کا تفصیلی رپورٹ شخصی تاثرات کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ رپورژ تاز میں اہل قلم حضرات زبان اور بیان کے جو ہر نمایاں کرتے اور ہر پیچیده عملی وادبی یا مسئلہ کو دلچه یا مسئلہ کو دلچسپ انداز سے نمایاں کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر رپورتا ژاد بی اور فنی
خصوصیات سے مالا مال مضمون ہوتا ہے۔

رپورتاژ نگار علمی و ادبی جولانی کے ساتھ ادب کے اہم نکات کو شامل کر کے ایسی دلچسپ رپورٹ تیار کرتا ہے جس میں باریک بین اور بذلہ مجھی کو بھی دخل ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے کرشن چندر نے پودے لکھ کر ر پورت زنگاری کی بنیاد رکھی۔ کرشن چندر کے بعد اردو کے بیشتر ترقی پسند تحریک قلم کاروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی اور دور حاضر میں بھی اس صنف کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غیر افسانوی نثر کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ غیر افسانوی نثر اپنی واقعیت اور حقیقت پسندی کے باعث امتداد زمانے کے ساتھ زیادہ مقبول ہوئی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button