نئی دہلی ،9ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پیغمبر اسلامؐ کیخلاف گستاخانہ تبصرہ کیس میں بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی گرفتاری کی درخواست کرنے والے وکیل کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس یو للت، جسٹس رویندر بھٹ اور جسٹس پی ایس نرسمہا نے کی۔ جب بنچ نے آرٹیکل 32 کے تحت گرفتاری کی درخواست پر غور کرنے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تو درخواست گزار کے وکیل نے متبادل درخواست پر روشنی ڈالی، جس میں موب لنچنگ سے متعلق تحسین پونا والا کے فیصلے میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سی جے آئی للت نے کہا کہ یہ سادہ اور بے ضرر لگ سکتا ہے لیکن اس کے بہت دور رس نتائج ہیں۔ عدالت کو ہدایات جاری کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ آپ درخواست واپس لے لیں۔اس کے مطابق یہ معاملہ واپس لے لیا گیا اور اس طرح درخواست خارج کر دی گئی۔ ایڈووکیٹ ابو سہیل کی جانب سے ایڈوکیٹ چاند قریشی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں واقعے کی آزادانہ، معتبر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہدایت کی درخواست کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے قبل ازیں 26 مئی2022 کو نوپور شرما کے خلاف ملک کے مختلف مقامات پر درج تمام ایف آئی آرز کو منتقل کر دیا تھا۔



