نئی دہلی،30؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کے ایک نرسنگ ہوم میں 2 ماہ کے بچے کو بے رحمی سے پیٹا گیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور منہ پر سوجن بھی آگئی۔ دراصل #یوپی کے #ہاتھرس میں رہنے والے ایک #خاندان نے اپنے 2 ماہ کے معصوم بچے کو علاج کے لیے دہلی کے وویک وہار کے #نرسنگ ہوم میں داخل کرایاتھا۔
نرسنگ ہوم میں والد دن میں ایک بار بچے کو دیکھ لیتے تھے ، کیونکہ اسے وہاں رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے بعد 24 جولائی کو نرسنگ ہوم کی جانب سے بتایا گیا کہ آپ کے بیٹے کو چوٹ لگی ہے، بائیں ہاتھ میں فریکچر ہے اور بچے کا منہ بھی سوج گیا ہے۔والد کے کہنے پر نرسنگ ہوم کے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج چیک کی گئی۔
جس میں ایک نرس معصوم کو مارتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ اس کے بعد والد نے وویک وہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ والد صبیب کے مطابق اس کی بیوی گلفشا نے 22 مئی کو ہاتھرس اسپتال میں #جڑواں بچوں کو #جنم دیا۔
اس کے بعد 16 جولائی کوبیٹے کی صحت بگڑنے کے بعد اسے علی گڑھ کے #اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن انفیکشن زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے دہلی کے وویک وہار میں کیئر نیو بورن اینڈ چائلڈ سنٹر میں داخل کرایا گیا۔
صبیب کے مطابق سی سی ٹی وی #فوٹیج سے پتہ چلا ہے کہ سومیا نامی ایک نرس 24 جولائی کی صبح 3:40 بجے #بچے پر حملہ کر رہی ہے اور اس کو پٹک رہی ہے۔ صبیب نے الزام لگایا کہ انہیں نرسنگ ہوم کی طرف سے خاموشی رہنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی، لیکن 27 جولائی کو صبیب نے بیٹے کو ڈسچارج کرالیا اور ہیڈگیواڑ اسپتال میں داخل کرایا۔
میڈیکل میں معصوم کے ہاتھ میں فریکچر ہے اور چوٹ کے نشانات ملے ہیں۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔اس واقعے نے ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ باپ نے کتنے اعتماد کے ساتھ اپنے بچے کو نرسنگ ہوم میں چھوڑا، لیکن اس کے بچے کے ساتھ نرس نے برا سلوک کیا۔



