بین الاقوامی خبریںسرورق

نصیرات کیمپ میں اسرائیلی ڈرون حملہ، پانی لینے آئے سات بچے شہید

نصیرات میں پیاسے بچوں کا قتل عام:یہ کس جرم کی سزا ہے؟

زندگی بخش پانی بھی موت بن گیا!

غزہ ،۱۴؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ کی سرزمین پر بہنے والا خون اب صرف ایک خبر نہیں، یہ ہر دل میں دھڑکتا ایک زخم بن چکا ہے۔ اتوار 13 جولائی کی صبح نصیرات کے نئے کیمپ میں پیاس سے تڑپتے ننھے بچوں نے جب پانی کے حصول کی آس میں اپنی ننھی جانیں قطار میں کھڑی کیں، تو انہیں پانی ملا، نہ زندگی، بلکہ ایک قابض اسرائیلی ڈرون نے ان کے ننھے جسموں کو خاک و خون میں نہلا دیا۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا یہ ایک دل دہلا دینے والاپیاسوں کا قتل عام تھا ۔ ایک ایسا اندوہناک منظر، جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی شرما جائیں، قلم لرز جائے اور آنکھیں اشکبار ہو جائیں۔ سات معصوم بچے، جن کے ہاتھوں میں خالی گیلن تھے، جنہوں نے صرف پانی مانگا تھا، صرف زندگی چاہی تھی، انہیں درندگی سے بھرے ایک میزائل نے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

سراج پانی کے لیے گیا کفن میں لوٹا

9 سالہ سراج ابراہیم معصوم چہرہ، کمزور جسم، کانپتے قدم۔ اس صبح جب اپنے گھر سے نکلا تو بس اتنی سی خواہش تھی کہ چند قطرے پانی لا سکے۔ تین ماہ سے پیاس سے بلکتی اس کی ماں، بہن، بھائی اور بیمار باپ شاید آج ان کی پیاس بجھ جائے۔ سراج کو کیا خبر تھی کہ یہ سفر اس کی آخری منزل ثابت ہوگا۔وہ گیلن تو نہ بھر سکا، لیکن اس کا خون قابض اسرائیل کی سنگ دلی کی گواہی بن کر مٹی میں جذب ہو گیا۔ اس کے والد نے جب بیٹے کی نعش سینے سے لگائی تو بس اتنا کہہ سکے:

"تین مہینے سے پیاسے ہیں، ہمیں پانی نہیں چاہیے بابا؟

سراج کا سوال اب پوری انسانیت سے ہے۔ اور یہ سوال صرف سراج کا نہیں، ان بیس ہزار بچوں کا ہے جو اس وحشیانہ نسل کشی کی نذر ہو چکے ہیں۔

وہ سب پانی لینے آئے تھے، امیدوں کے ساتھ، لیکن جب پانی کے مرکز پر اسرائیلی ڈرون نے میزائل برسایا، تو پورا منظر گویا قیامت بن گیا۔ نعشیں زمین پر بکھر گئیں، گیلن خون سے بھر گئے، اور آسمان چیخوں سے گونج پڑا۔

ابو محمد کی لرزتی آواز آئی۔ یہ کس جرم کی سزا ہے؟۔ ایک عمر رسیدہ شخص، صبح سویرے پانی کے لیے آیا تھا۔ چند لمحے پہلے ہی قطار سے ہٹا تھا کہ موت کا کھیل شروع ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جسے نہ وقت بھلا سکتا ہے نہ زمین۔”بچے بکھرے پڑے تھے کچھ کی سانسیں باقی تھیں، کچھ کی آخری ہچکیاں تھیں۔ جن بچوں کو اٹھایا، وہ میرے پڑوسیوں کے تھے۔ ان کا کیا قصور تھا؟ کیا صرف پیاسا ہونا جرم تھا؟ کیا پانی مانگنے کی سزا موت ہے؟۔ابو محمد کی آواز بھرا گئی، آنکھیں اشکوں کا دریا بن گئیں۔ ہر سوال انسانیت کی عدالت میں گونج رہا ہے۔

قابض اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کا سب سے بڑا نشانہ بچے بنے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سات اکتوبر سنہ2023 سے روزانہ 27 فلسطینی بچے مارے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ مستقبل کے فلسطین کو مٹانے کی سازش ہے۔اب تک 18 ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں۔ 130 بچے صرف ایک دن میں قتل کیے گئے وہ بھی کسی جنگی محاذ پر نہیں، اپنے گھروں، خیموں، ہسپتالوں اور پانی کی قطاروں میں۔

یہ معصوم چہرے، جو خاموش ہو گئے، صرف چند قطروں کی طلب میں تھے۔ ان کی پیاس بجھائی نہ جا سکی، لیکن ان کے خون نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کی نعشیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں۔ہماری خاموشی کو مت سمجھو، ہم تاریخ میں لکھے جائیں گے بطور سوال، بطور احتجاج، بطور آنسو۔

متعلقہ خبریں

Back to top button