سرورقگوشہ خواتین و اطفال

اے بنت حرم جاگ ذرا

عرشیہ شکیل۔ممبئی

تاریخ شاہد ہے کہ خواتین نے ہر دور میں دنیا کے کارخانے کو چلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔عرب کے جاہلیت بھرے دور میں مشہور تاجرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، عالمہ و فقہیہ کی استاد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ،میدان جنگ کی سپہ سالار ام عمارہ رضی اللہ عنہا ، عرب کی نمبر ون شاعرہ خنساء رضی اللہ عنہا، بعد کے دور میں اندلس کی مشہور محدثہ ام سعد،دنیا کی پہلی یونیورسٹی القرون کی بنیاد رکھنے والی فاطمہ الفہیری، علم ہندسہ کی ماہرقرطبہ کی لبنی،ریسرچ اسکالر ڈاکٹر ندیم سحر عنبرین وغیرہ لاکھوں خواتین ہیں جنھوں نے تاریخ رقم کی۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عوت کے وجود کا سب سے بڑا شہکار یہ ہے کہ اس نے ایسی ہستیوں کو جنم دیا جس پر آج بھی تاریخ فخر محسوس کرتی ہے۔ اس کی گود میں امام ،خطیب، مفسرین ،صاحب کتاب، شہداء، حاکم ،شہنشاہ ،جنگجووں نے پرورش پائی ۔

جو اس کی محبت قربانی ایثار کی جیتی جاگتی مثال ہےلیکن افسوس دور حاضر کی خاتون ملت نے اپنے مقام و مرتبہ کو نہ پہچان سکیں اور نہ ہی اپنے فرائض بخوبی ادا کر پا رہی ہیں ۔اور نہ اپنے حقوق حاصل کر رہی ہیں۔

اس کی اہم وجہ اسلامی تعلیمات کا پوری طرح سے نہ جاننا۔اور اسلام کے صحیح نظام زندگی کےتصورات کو نہ سمجھنا۔حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب اسلام نے عورتوں کوجو مقام و مرتبہ دیا ہے وہ کسی مذہب میں نہیں نظر آتا ۔ دور حاضر میں اسلام کے تئیں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو چار دیواری میں قید کر دیا ہے۔اور عورتوں کی صلاحیتیں ضائع ہورہی ہے جبکہ کہ وہ ہماری آبادی کا نصف حصہ ہے اور سماج میں اس کی حصہ داری ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام عورت کو میدان عمل میں اترنے سے ہرگز نہیں روکتا۔ لیکن ہاں کچھ حدود اور کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے جو اس کی عزت نفس شرم حیا اور پاکدامنی پر آنچ نہ آنے دیں۔نہ اس کا گھر ٹوٹے اور نہ ہی اولاد بے راہ رواں ہو جائے۔مختصرا وہ سارے کام کر سکتی جو اس کی فطرت کے خلاف نہ ہو اور اس کی نسوانیت کو برقرار رکھیں۔

اسلام میں عورت کا مقام-

اسلام نے عورت اور مرد کو ایک ہی جنس بتا کر مساوات کا درس دیا۔تاکہ عوت کا استحصال نہ ہو۔مال،جائیداد اور وراثت کا حق دیکر اسے خود کفیل بنایا۔عورت کو تعلیم کا حق دیا۔درس وتدریس،تقریر و تحریری آزادی دی۔اپنی پسند کی شادی کی اجازت دی نبھا نہ ہونے کی صورت میں خلح کا اختیار دیا۔بیوہ ہونے کی صورت میں نکاح کا اختیار دیا۔

اسلامی حدود میں رہ کر بوقت ضرورت معاشی جہدوجہد کی آزادی دی حتی کہ جہاد میں شرکت سے بھی نہیں روکا گیا۔اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی۔نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا۔بیٹی کی اچھی پرورش پر جنت کی بشارت دی ہے۔

پیغام حرم-

دور جدید خواتین کے لئے چیلنج بھرا دور ہے بظاھر وہ آزاد و خودمختار نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں اکثریت آج بھی مردوں کا آلہ کار بنی ہوئی ہے۔کہیں عورت جہیز کے لئے جلائی جاتی ہے توکہیں بیٹیوں کی پیدائش پر لعن طعن کی جاتی ہے۔والدین پر بوجھ سمجھیں جاتی ہیں۔ زنا بالجبر و تشدید کا شکار ہے۔

آزادی نسواں کے کھوکھلے نعروں , آرٹ اور آزادی کے نام پر بازاروں کی زینت بنا ئی جاتی ہے۔اشتہاری کمپیناں مارکیٹنگ کے لئے عورت کو پروڈکٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔فحش رسائل و میگزین میں عورت کی ہیجان انگیز عریاں تصاویر چسپاں کی جاتی ہیں۔

افسوس عورت اس بات پر خوش ہے کہ اسے خوب عزت و شہرت مل رہی ۔لیکن حقیقت یہ ہےکہ عورت کو عزت مرد بنا کر دی جا رہی ہے عورت کے روپ میں نہیں۔

یہی مقام ہے کہ عورت سوچیے۔ ہمیں عورت کے روپ میں عزت کیوں نہیں ملتی؟

کیا ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔مکان کو گھر بنے میں اپنا سب کچھ داو پر لگانے والی ذات کی قربانیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

قصور وار کون؟

مرد جتنے ذمہ دار ہے خود عورت بھی اتنی ہی ذمہ دار ہے۔ وہ سمجھتی ہی نہیں کہ وہ کتنی اہم ہے۔۔گھر میں وہ بچوں کی پرورش، تعلیم و تربیت، اہل خانہ کی دیکھ بھال،سب کا پیٹ بھرنا،گھر کا بجٹ،گھر کی آرائش و زیبائش وغیرہ کئی قلمدان سنبھالتی ہے۔ پورا ایک ادارہ چلاتی ہے۔

گھر جہاں رشتے بنتے ہیں جو دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں جہاں نسلیں تیار ہوتی ہیں جو کل قوم وملت کی معمار ہوگی ۔اتنی اہم ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتی۔مثلا اگرگھریلو عورت سے پوچھا جائے کہ آپ کیا کرتے ہو تو کہتی ہیں کچھ نہیں۔اور اگر جاب کرتی ہے تو پھر فخر سے کہتی ہے میں فلاں فلاں کمپنی یا ادارے میں کام کرتی ہوں۔

گھر بھی ایک ادارہ ہے جسے وہ چلاتی ہے۔عورت خود اپنی حیثیت پہچانیں۔عورت کے لئےاسلام یہی پیغام دیتا ہے کہ اپنے مقام و حیثیت کو پہچانے۔اپنے فرائض سے غافل نہ ہو۔اس کی اصل توجہ اس کا اپنا گھر ہو اور اصل ذمہ داری اولاد کی تعلیم وتربیت ہے۔اورگھر کو پر سکون جائے پناہ بنانا۔

ضمنی ذمہ داری میں یہ بات آتی ہے کہ وہ اپنےگھر والوں کے لئے مالی تعاون دے۔اپنے صلاحیتوں سے سماج میں اپنی حصہ داری بھی لگائے لیکن حدودِ کے ساتھ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button