سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

موٹاپا خاموش قاتل کیوں بن رہا ہے؟ سالانہ 28 لاکھ اموات کا انکشاف

موٹاپے کو ہلکا نہ لیں- صرف جسمانی وزن نہیں, بلکہ کئی مہلک بیماریوں کی جڑ

حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)موٹاپا ایک ایسی خاموش مگر خطرناک بیماری ہے جو بظاہر نظر تو آتی ہے, مگر اس کے اثرات وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ انسانی جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ یہ نہ کسی دشمن کی طرح سامنے آتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر جان لیوا ثابت ہوتا ہے, مگر مسلسل صحت کو نقصان پہنچاتے ہوئے انسان کو مختلف مہلک بیماریوں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کے مطابق موٹاپا دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی ایک دائمی بیماری بن چکا ہے, جو ہر سال تقریباً 28 لاکھ اموات کا سبب بنتا ہے اور کینسر کی 13 اقسام میں براہ راست کردار ادا کرتا ہے۔

طبی لحاظ سے موٹاپا اس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جائے اور وہ انسان کی مجموعی صحت پر منفی اثر ڈالنے لگے۔ موٹاپے کی پیمائش عام طور پر باڈی ماس انڈیکس یعنی BMI کے ذریعے کی جاتی ہے, جو قد اور وزن کے تناسب سے معلوم کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا BMI 30 یا اس سے زیادہ ہو تو اسے موٹاپے کا شکار سمجھا جاتا ہے, جبکہ 40 سے زائد BMI کی صورت میں یہ حالت انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے اور بعض اوقات سرجری تک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ BMI بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس, دل کی بیماری, ہائی بلڈ پریشر اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

عالمی سطح پر موٹاپا اب وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا کا ہر آٹھواں فرد موٹاپے کا شکار ہے, جبکہ 43 فیصد بالغ افراد زائد وزن رکھتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 88 کروڑ بالغ اور 16 کروڑ بچے موٹاپے میں مبتلا ہیں۔ بھارت میں صورتحال مزید تشویشناک ہے, جہاں شہری طرز زندگی, غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی نے موٹاپے کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق 2022 تک بھارت میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے زائد بچے اور نوعمر موٹاپے کا شکار ہو چکے ہیں, جو مستقبل میں صحت کے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

موٹاپے کے بڑھنے کی وجوہات صرف زیادہ کھانا نہیں بلکہ جدید طرز زندگی سے جڑی کئی عادات ہیں۔ جنک فوڈ اور الٹرا پروسیسڈ خوراک کا بڑھتا ہوا استعمال, طویل وقت تک بیٹھ کر کام کرنا, موبائل فون اور ٹیلی ویژن کا زیادہ استعمال, نیند کی کمی, ذہنی دباؤ اور جذباتی کھانا موٹاپے کی بنیادی وجوہات بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ادویات, شادی کے بعد جسمانی سرگرمی میں کمی, بچپن سے غیر صحت مند عادات اور جینیاتی عوامل بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موٹاپا کئی سنگین اور جان لیوا بیماریوں کی جڑ ہے۔ یہ کینسر کی 13 اقسام, خصوصاً چھاتی, بڑی آنت, جگر, گردے, لبلبہ, بیضہ دانی, پروسٹیٹ اور تھائیرائیڈ کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔ موٹاپا مردوں اور عورتوں دونوں میں بانجھ پن کا سبب بنتا ہے, جہاں مردوں میں سپرم کی تعداد نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے اور خواتین میں بیضہ دانی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹائپ 2 ذیابیطس, ہارٹ اٹیک, ہائی بلڈ پریشر, فالج, فیٹی لیور, گھٹنوں اور کمر کا درد, نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری اور ڈپریشن جیسے مسائل بھی موٹاپے سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

حالیہ برسوں میں طبی ماہرین نے موٹاپے کی تشخیص کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں, جن کے مطابق صرف BMI پر انحصار کافی نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ, جگر اور دل کے اردگرد جمع ہونے والی چربی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے, کیونکہ یہی چربی زیادہ تر دائمی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ اسی بنیاد پر موٹاپے کو اب دو مراحل میں تقسیم کیا جا رہا ہے, جن میں ایک وہ حالت ہے جس میں ابھی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں مگر مستقبل میں سنگین بیماریوں کا خطرہ موجود ہوتا ہے, جبکہ دوسری وہ حالت ہے جس میں اعضاء کا کام متاثر ہو چکا ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی دشوار ہو جاتی ہے۔

ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موٹاپا کوئی معمولی یا وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور جان لیوا بیماری ہے۔ متوازن غذا, روزانہ جسمانی سرگرمی, مناسب نیند, ذہنی دباؤ میں کمی اور بروقت طبی مشورہ اپنا کر اس خطرناک دشمن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزن کم کرنا صرف ظاہری خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ ایک صحت مند اور طویل زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button