بین الاقوامی خبریںسرورق

جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ؟ اسرائیل کا غزہ سے اسلحہ ہٹانے پر اصرار

حماس کا دو ٹوک موقف: ہتھیار سرخ لکیر ہیں، کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

تل ابیب :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل کی تیاری کے باوجود خطے میں کسی بھی وقت جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑک سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے منگل کے روز اعلان کیا کہ تل ابیب غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے چند اہم شرائط ہیں۔

غزہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط

گیدون ساعر نے واضح کیا کہ "جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے۔” ان کا کہنا تھا کہ حماس کو جنگ بندی کے بدلے اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔

یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ

اسرائیلی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے یرغمالیوں کی رہائی پر ایک معاہدے کی ضرورت ہے۔”

اسرائیل کی نئی دھمکی

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ کسی بھی وقت دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

غزہ میں امداد پر اسرائیلی اعتراض

گیدون ساعر نے دعویٰ کیا کہ "غزہ میں بھیجی جانے والی انسانی امداد حماس کے لیے ایک معاشی سہارا بن گئی ہے، اور حماس اسے تل ابیب کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گا اور امداد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

جنگ بندی یا نیا تصادم؟

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر مصر اور دیگر ممالک جنگ بندی کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اسرائیل کی شرائط اور دھمکیوں کے باعث خطے میں جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

ہمارے ہتھیار سرخ لکیر ہیں، غزہ کی تعمیر نو کے بدلے سمجھوتہ نہیں ہوگا-حماس 

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط پر فلسطینی تنظیم نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے واضح کیا کہ تحریک کو غیر مسلح کرنا "سرخ لکیر” ہے اور اس پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ "حماس تعمیر نو اور امداد کے بدلے اپنے ہتھیاروں پر سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی۔”

ہتھیار ڈالنے کی بات محض بکواس ہے

سامی ابو زہری نے اسرائیل کے اس مطالبے کو "محض بکواس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ہتھیار ان کی مزاحمت کی علامت ہیں اور اس پر کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی تجویز یا منصوبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔”

حماس بھی جنگ کے لیے مکمل تیار ہے اور متعدد بار یہ واضح کر چکی ہے کہ "اگر اسرائیل دوبارہ جنگ چھیڑتا ہے تو حماس بھی لڑنے کے لیے تیار ہے۔”

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر ہنگامی عرب سربراہی اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے اپنا منصوبہ پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مصری منصوبے میں فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت اور غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کی تجویز بھی شامل ہوسکتی ہے۔اس میں غزہ میں ہتھیاروں اور مسلح دھڑوں کے معاملے پر ایک تجویز بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button