بین ریاستی خبریںسرورق

اڑیشہ : شمشان گھاٹ میں نصف جلے انسانی اعضا کو کھاتے ہوئے دو شخص گرفتار

ریاست اڈیشہ کے میوربھنج ضلع میں ایک عجیب واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں شمشان گھاٹ میں نصف جلے ہوئے انسانی گوشت کھاتے ہوئے دو افراد کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

بھونیشور،12جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)  ریاست اڈیشہ کے میوربھنج ضلع میں ایک عجیب واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں شمشان گھاٹ میں نصف جلے ہوئے انسانی گوشت کھاتے ہوئے دو افراد کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد ضلع میں بداشائی پولیس حدود کے تحت بندھاساہی گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق بندھاساہی گاؤں کی مدھسمیتا سنگھ (25) منگل کو بیمار ہوگئیں اور انہیں قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مدھسمیتا نے اپنی بیماری کی وجہ سے دم توڑ دیا اور اس کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا۔ جس کے بعد نعش کو آخری رسومات کے لیے مشانی گاؤں لے جایا گیا۔

متوفی کے والد سومائی سنگھ کے مطابق بارش ہونے کی وجہ سے نعش پوری طرح سے نہیں جلی۔ یہ دیکھ کر ایک معمر نے مشورہ دیا کہ نعش کو برتن میں رکھ اگنی دان کیا جائے ۔متوفی کے والد سے اجازت لینے کے بعد اس نے اور ایک نوجوان نے نعش کے جگر کو تین حصوں میں کاٹ دیا اور جلانے کے بجائے آدھے جلے ہوئے حصوں کو کھانے لگا۔مقامی گاؤں والوں نے دونوں ملزموں کو پکڑ لیا اور پولیس کو اطلاع دینے سے پہلے ان کی پٹائی کی۔ ان کے پہنچنے پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا اور مشتعل گاؤں والوں کو تسلی دی۔جب گاؤں والوں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے نعش کا آدھا جلا ہوا گوشت کیوں کھایا تو دو ملزمان سندرمن سنگھ اور بھورون سنگھ نے کہا کہ وہ نشے میں تھے اور گوشت کو ناشتے کے طور پر کھائے ہیں۔ مقتول کے والد نے ملزمان کیخلاف نہ صرف انسانی گوشت کھانے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ملزمان نے آدی باسی برادری کے رسم و رواج کی خلاف ورزی کی تھی۔بادشائی پولیس آئی آئی سی سنجے کمار پریڈا نے میڈیا کو بتایا کہ گاؤں والوں کی شکایت کی بنیاد پر دو لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button