شادی کے تحفے میں بم بھیج کر دولہا کو مارنے والے کالج پرنسپل کو عمر قید کی سزا
شادی کے صرف پانچ دن بعد ان کے گھر ایک پارسل پہنچا۔
اوڈیشہ، ۲۹ مئی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)انڈیا کی مشرقی ریاست اوڈیشہ کے ضلع بولانگیر کے پٹناگڑھ شہر میں 2018 میں پیش آئے شادی کے تحفے میں بم دھماکے کے سنسنی خیز واقعے میں عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا۔ کالج کے سابق پرنسپل پنجی لال مہر کو دلہا اور ان کی دادی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔
یہ واقعہ 23 فروری 2018 کو اس وقت پیش آیا جب 26 سالہ سوفٹ ویئر انجینئر سومیہ سیکھر ساہو کی شادی کے صرف پانچ دن بعد ان کے گھر ایک پارسل پہنچا۔ پارسل میں تحفہ کے بہانے بم چھپایا گیا تھا، جو کھولنے پر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس حادثے میں سومیہ اور ان کی دادی جیمامنی موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں، جبکہ دلہن ریما شدید زخمی ہوئیں۔
عدالت نے 56 سالہ پنجی لال مہر کو قتل، اقدام قتل اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال کا قصوروار قرار دیا۔ اگرچہ یہ کیس ایک "غیر معمولی اور گھناؤنا” جرم مانا گیا، لیکن عدالت نے اسے سزائے موت کے زمرے میں شمار کرنے سے انکار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
یہ کیس ’ویڈنگ بم کیس‘ کے نام سے مشہور ہوا اور بی بی سی نے اسے دو حصوں پر مشتمل تحقیقی رپورٹ میں بھی کور کیا۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ پنجی لال مہر، جس کالج میں پرنسپل تھے، وہیں سومیہ کی والدہ بطور پروفیسر کام کرتی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ پیشہ ورانہ رقابت اور ذاتی رنجش اس سنگین جرم کا باعث بنی۔ مہر نے دیوالی کے موقع پر پٹاخوں سے بارود نکال کر دیسی بم بنایا، اور اسے رائے پور سے جعلی نام سے کورئیر کروا کر ساہو خاندان تک پہنچایا۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کئی ہفتے بعد پولیس کو ایک گمنام خط موصول ہوا جس نے تفتیش کا رخ موڑ دیا۔ اس خط میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کام ایس کے سنہا نامی شخص نے کیا۔ خط کے انداز اور الفاظ سے سومیہ کی والدہ نے فوراً پہچان لیا کہ اسے ان کے سابق کولیگ پنجی لال مہر نے ہی تحریر کیا ہے۔
ابتدائی طور پر پولیس نے مہر کے خلاف شبہ کو مسترد کیا، مگر شواہد اور اعترافی بیانات کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مہر نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے دھماکہ خیز پارسل تیار کیا اور سفر میں اپنی موجودگی چھپانے کے لیے کئی چالاکیاں اختیار کیں، جن میں اپنا فون گھر پر چھوڑنا اور سی سی ٹی وی کی نظروں سے بچنا شامل ہے۔
ریما ساہو، جو اس حادثے میں شدید زخمی ہوئیں، آج بھی اس صدمے سے پوری طرح نہیں نکل پائیں۔ ان کی حوصلہ مندی اس واقعے کی اصل کہانی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔



