رانچی ، 15اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آفس آف پرافٹ کیس میں قصوروار پائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے ہیمنت سورین کے خلاف اپنی رپورٹ مہر بند لفافے میں گورنر کو بھیجی۔ اس میں کمیشن نے ان کی اسمبلی رکنیت کے بارے میں بھی سفارش کی تھی۔ لیکن اب تک گورنر نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس کے بارے میں سی ایم ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ اگر میں مجرم ہوں تو ہمیں سزا ملنی چاہیے۔ انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔سورین نے کہا کہ یہ سازش ہمارے مخالفین کی طرف سے کی جا رہی ہے اور ریاست میں غیر ضروری افراتفری پیدا کی جا رہی ہے۔
گورنر اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے میں یہ کہوں گا کہ ہندوستان میں یہ پہلا واقعہ ہو گا کہ کوئی وزیر اعلیٰ خود گورنر اور الیکشن کمیشن سے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ایک وزیر اعلیٰ کو کیا سزا دی جائے۔ وزیراعلیٰ انہیں ایسا کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل گورنر رمیش بیس نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی رکنیت کو لے کر بہت ہی عجیب بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے جو لفافہ بھیجا ہے وہ چسپاں کیا گیا ہے، یہ بالکل نہیں کھل رہا۔ گورنر کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور لوگوں نے سوال کیا کہ گورنر جیسے آئینی عہدے پر بیٹھا شخص ایسا غیر آئینی بیان کیسے دے سکتا ہے۔
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ سمجھیں کہ مخالفین کیا کر رہے ہیں، میں جو کر رہا ہوں وہ ہمارے لیے اہم ہے، انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں ان باتوں سے پریشان ہوں،لیکن ہم ہر سوال کا جواب دینا اور لڑنا جانتے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق گورنر کو خط عوامی کرنے یا نہ کرنے کا حق ہے۔ وہ اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں اور ہم اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔



