اوم برلا مسلسل دوسری بار لوک سبھا کے اسپیکر منتخب
اوم برلا کے اسپیکر بننے پر راہل اور اکھلیش نے کیا کہا؟
نئی دہلی ، 26جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اوم برلا کو مسلسل دوسری مرتبہ لوک سبھا اسپیکر منتخب کیا گیا ہے، جو ان کی سیاسی کامیابی اور بھارتی سیاست میں ان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اہم عہدے کے لیے نریندر مودی نے ان کا نام تجویز کیا، جسے این ڈی اے کے تمام اتحادیوں، بشمول بھارتی جنتا پارٹی، نے بھرپور حمایت دی۔ اوم برلا کو صوتی ووٹ کے ذریعے منتخب کیا گیا، جبکہ کانگریس کی جانب سے کے سریش کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایوان میں راہل گاندھی، اکھلیش یادو، اور کرن رجیجو سمیت اہم رہنما موجود تھے۔ 18ویں لوک سبھا کے لیے اسپیکر منتخب ہونے کے بعد، اوم برلا نے اپنی کرسی سنبھالی اور کہا کہ "ایک بار پھر لوک سبھا کا اسپیکر بننا میری خوش قسمتی ہے”۔ ان کی مسلسل دوسری کامیابی نہ صرف ان کی مقبولیت کی علامت ہے بلکہ بھارتی جمہوریت میں ایک اہم مثال بھی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اوم برلا کو مسلسل دوسری بار لوک سبھا اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ "یہ ایوان کی خوش نصیبی ہے کہ آپ دوسری مرتبہ اس عظیم نشست پر فائز ہوئے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ امرتکال کے اس اہم دور میں اسپیکر کی حیثیت سے دوبارہ منتخب ہونا ایک بڑی ذمہ داری ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ آئندہ پانچ سال میں برلا سب کی رہنمائی کریں گے۔ نریندر مودی نے مزید کہا کہ "جو کام آزادی کے 70 سال میں ممکن نہیں ہو سکا، وہ آپ کی صدارت میں اس ایوان سے ممکن ہوا۔” انہوں نے جمہوریت کے مختلف مراحل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات ہمیں سنگ میل طے کرنے کا موقع ملتا ہے اور بھارت کو لوک سبھا کی کامیابیوں پر فخر ہوگا۔ انہوں نے اوم برلا کے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محض 17 سال کی عمر میں پہلا انتخاب جیت کر بھارتی سیاست میں قدم رکھا، جو ان کی قیادت اور لگن کا ثبوت ہے۔
اوم برلا کا سیاسی سفر نوجوانی ہی سے شروع ہو گیا تھا، جب وہ 1979 میں کوٹا کے گومان پورہ میں گورنمنٹ سینئر سیکنڈری اسکول کے طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ جلد ہی وہ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (BJYM) کے ضلعی صدر بن گئے اور چار سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں 1991 سے 1997 تک انہوں نے ریاستی صدر اور یوتھ ونگ کے قومی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے قومی سطح پر پارٹی کی قیادت سے روابط استوار کیے، جو انہیں بھارتی سیاست کے مرکزی دھارے میں لے آیا۔ برلا نے راجستھان کی کوٹہ بنڈی لوک سبھا سیٹ سے لگاتار تین بار پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، جبکہ اس سے قبل وہ راجستھان اسمبلی میں تین مرتبہ کوٹہ علاقہ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت اور قیادت کی بنیاد پر، وہ ان پانچ اہم عوامی نمائندوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں مسلسل دو میعادوں کے لیے لوک سبھا اسپیکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جو ان کی مقبولیت اور جمہوری نظام پر اعتماد کی دلیل ہے۔
مسٹر اوم برلا نے اپنے باضابطہ سیاسی کیریئر کا آغاز 1987 میں کوٹا میں بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے صدر کی حیثیت سے کیا۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہیں 1991 میں راجستھان بی جے وائی ایم کا صدر مقرر کیا گیا، اور بعد ازاں 1997 میں وہ یوا مورچہ کے قومی نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اپنی سیاسی ترقی کے اس سفر میں، برلا نے مقامی سطح سے لے کر قومی سطح تک نمایاں کردار ادا کیا۔ 2003 میں، انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما اور وزیر رام کشن ورما کو شکست دے کر راجستھان اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد ازاں 2008 میں، انہوں نے دوبارہ جنوبی کوٹا اسمبلی سیٹ سے کامیابی حاصل کی، جہاں انہوں نے ایک بار پھر رام کشن ورما کو 24252 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ ان کی سیاسی ساکھ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور 2013 میں وہ ایک بار پھر کوٹا ساؤتھ اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ ان مسلسل کامیابیوں نے انہیں بھارتی جنتا پارٹی کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد چہرہ بنا دیا، جس نے بعد میں قومی سیاست میں ان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر دیا۔
اوم برلا نے 2014 میں کوٹہ بنڈی لوک سبھا سیٹ سے کانگریس کے امیدوار اجے راج سنگھ کو شکست دے کر ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا، اور 2019 کے عام انتخابات میں انہوں نے کانگریس کے سینئر رہنما رام نارائن مینا کو 2 لاکھ 782 ووٹوں کے بھاری فرق سے شکست دے کر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں کامیابی حاصل کی۔ اسی سال، 19 جون 2019 کو، انہیں متفقہ طور پر سترہویں لوک سبھا کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ اپنے دورِ اسپیکرشپ میں، برلا نے کئی مثالی اقدامات کیے، جن میں ایوان کی کارروائی کو دیر رات تک جاری رکھنا، اور پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کو اظہارِ خیال کا بھرپور موقع دینا شامل ہے۔ ان کا انداز قیادت شفافیت، غیر جانبداری اور جمہوری روایات کا عکاس رہا، جس نے بھارتی لوک سبھا کے وقار کو مزید بلند کیا۔
اوم برلا کے اسپیکر بننے پر راہل اور اکھلیش نے کیا کہا؟
نئی دہلی ، 26جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)آج 17ویں لوک سبھا کے اسپیکر کا انتخاب صوتی ووٹ سے ہوا، جس میں این ڈی اے کے امیدوار اور بی جے پی کے ایم پی اوم برلا نے کامیابی حاصل کی۔ اوم برلا مسلسل دوسری بار لوک سبھا کے اسپیکر بنے ہیں۔ 17ویں لوک سبھا میں بھی اوم برلا متفقہ طور پر اسپیکر بنے تھے، لیکن اس بار وہ الیکشن جیت کر ایوان کے اسپیکر بن گئے ہیں۔ اس موقع پر پی ایم مودی کے علاوہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ایس پی ایم پی اکھلیش یادو نے بھی انہیں مبارکباد دی۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے ایم پی راہل گاندھی نے اوم برلا کو اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے پاس زیادہ سیاسی طاقت ہے لیکن اپوزیشن بھی ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ یقین ہے کہ آپ ہمیں آواز اٹھانے دیں گے۔ اپوزیشن کی آواز کو دبانا غیر جمہوری ہے۔اپوزیشن آپ کی بھرپور مدد کرے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ امید ہے کہ آپ اپوزیشن کی آواز کو وسعت دینے کے ساتھ آئین کی حفاظت میں بھی ہمارا ساتھ دیں گے۔راہل گاندھی کے بعد سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور قنوج سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے اوم برلا کو اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ اکھلیش نے کہا کہ غیر جانبداری اس عظیم عہدے کی بڑی ذمہ داری ہے۔
امید ہے کہ لوک سبھا اسپیکر کے طور پر آپ سب کو برابر کا موقع دیں گے۔ نہ صرف اپوزیشن پر آپ کا کنٹرول ہے، آپ کا حکمران جماعت پر بھی کنٹرول ہے۔اکھلیش نے اسپیکر اوم برلا کے لیے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ایوان آپ کی ہدایت پر چلے گا نہ کہ الٹا۔ کسی عوامی نمائندے کو بے دخل نہ کیا جائے۔ اکھلیش نے کہا کہ لوک سبھا ہاؤس میں کسی بھی عوامی نمائندے کی آواز کو دبایا نہیں جانا چاہیے۔ اوم برلا کے لیے اکھلیش یادو نے کہا کہ آپ کی کرسی جمہوریت کے چیف جسٹس جیسی ہے۔



