بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیلی جارحیت کے 200 روز مکمل اسرائیل کی صیہونی فوج نے غزہ پر 75 ہزار ٹن بارود برسادیئے

غزہ میں دشمن کو 200 روز میں شرمناک شکست کے سوا کچھ نہیں ملا: ابوعبیدہ

غزہ، 24اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مقبوضہ فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کو 200 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 200 روز کے دوران غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 34 ہزار 183 افراد شہید جبکہ 77 ہزار 143 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سب سے زیادہ شکار خواتین اور بچے ہوئے ہیں، اب تک شہید ہونے والے افراد میں 14 ہزار 500 سے زائد بچے اور 9 ہزار 500 خواتین شامل ہیں۔خیال کیا جارہا ہے کہ شہدا کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ کہ نعشیں اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں دبی ہوسکتی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ان 200 روز میں غزہ پر 75 ہزار ٹن بارود برسا کر غزہ کی پٹی کے زیادہ تر شہری انفرااسٹرکچر کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں غزہ کے 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد رہائشی یونٹ اور 412 تعلیمی ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے اسپتالوں کو بھی نہ بخشا، اسرائیلی حملوں نے غزہ کے 32 اسپتالوں اور 53 مراکز صحت کو ناقابل استمعال کردیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے 126 ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حملوں میں غزہ کی 556 مساجد شہید اور 3 چرچ تباہ ہوگئے جبکہ آثار قدیمہ کے 206 مقامات بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے۔فلسطینی میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کم از کم 30 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

غزہ میں دشمن کو 200 روز میں شرمناک شکست کے سوا کچھ نہیں ملا: ابوعبیدہ

غزہ، 24اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے 200دن پورے ہونے پر ایک پیغام میں تمام فلسطینی مزاحمتی گروپوں سے اپیل کی ہے کہ تمام محاذوں پر مزاحمتی جنگ کو پھیلا دیا جائے۔مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ دشمن غزہ کی سرزمین میں ایک دلدل میں پھنس گیا ہے۔غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کو 200 روز مکمل ہونے پر القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ دشمن نے 200 روز میں غزہ میں تباہی اور موت پھیلائی۔انہوں نے کہا کہ دشمن غزہ کی سرزمین میں ایک دلدل میں پھنس گیا ہے، دشمن کو 200 روز میں شرمناک شکست کے سوا کچھ نہیں ملا، ہماری مزاحمت فلسطین کے پہاڑوں کی طرح مضبوط ہے، قابض فوج کی جارحیت ختم ہونے تک ہماری مزاحمت جاری رہیگی۔ان کا کہنا تھاکہ اللہ کی مدد سے دشمن پر ہمارے حملے جاری رہیں گے اور جب تک ہماری زمین کے ایک انچ پر بھی دشمن موجود رہے گا، ہم طرح طرح سے اسے اپنے حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔

القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے فلسطینیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر روزانہ ثابت قدمی کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں۔خیال رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 34 ہزار سے زائد افراد شہید اور 77 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ شہدا میں 14 ہزار سے زائد بچے اور 9 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔

نئی خیمہ بستی رفح میں کسی بڑے آپریشن کا امکان بڑھنے کی افواہوں کی بازگشت

غزہ، 24اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)نئی خیمہ بستی رفح میں بڑے آپریشن کے امکان کی افواہوں کی بازگشت ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ افواہ یہ ہے کہ رفح میں کسی بڑے آپریشن کا امکان بڑھ رہا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے سیٹ لائٹ تصاویر کے تجزیے کے بعد کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس کے قریب ایک نئی خیمہ بستی تشکیل دی جارہی ہے جب کہ اسرائیلی فوج رفح پر حملے کی منصوبہ بندی کا اشارہ دے رہی ہے۔تاہم فلسطینی محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بعد میں کہاکہ وہ خیمہ کیمپ ان بے گھر افراد کے لیے قائم کیا جا رہا تھا جو اس وقت ایک اسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اور اس کا فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ریڈ کراس کے ایک اہلکار نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا کہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو غزہ کے جنوبی شہر سے فلسطینیوں کو کسی متوقع اسرائیلی حملے سے پہلے نکالنے کے منصوبے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، لیکن موجودہ حالات میں ایسی منتقلی ممکن نہیں ہوگی۔اسرائیلی حکومت نے کہا تھاکہ وہ رفح پر حملے سے قبل شہریوں کے انخلا کے مختلف منظرناموں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جن میں خیموں کی بستیاں بنانا بھی شامل ہیں جو لڑائی سے محفوظ رہیں گے اور جنہیں بین الاقوامی تعاون سے قائم کیا جائے گا۔وال سٹریٹ جرنل نے اسرائیلی منصوبے کے بارے میں مصری حکام کی ایک بریفنگ کے حوالے سیرپورٹ دی تھی کہ انخلاء کا یہ آپریشن دو سے تین ہفتے تک جاری رہے گا اور اسے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت عرب ملکوں کے ساتھ مربوط ہو کر انجام دیا جائے گا۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے مشرق وسطیٰ کے علاقائی ڈائریکٹر، فابریزیو کاربونی نے متحدہ عرب امارات میں ایک امدادی کانفرنس کے موقع پر کہاکہ افواہ یہ ہے کہ رفح میں کسی بڑے آپریشن کا امکان بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم غزہ کے وسطی علاقے اور شمال میں تباہی کی سطح کو دیکھتے ہیں، تو ہم سمجھ نہیں سکتے ہیں کہ لوگوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا,جہاں انہیں مناسب پناہ گاہ اور ضروری سہولیات میسر ہوں گی۔

فابریزیو کاربونی نے کہا کہ اس وقت جو معلومات موجود ہیں، ہمیں اس (بڑے پیمانے کا انخلاء) ممکن دکھائی نہیں دیتا۔کاربونی نے منگل کو دبئی انٹرنیشنل ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ڈیولپمنٹ کانفرنس (DIHAD) میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ فوجی آپریشن بہر طور تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button