بین ریاستی خبریں

ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں اردو فکشن اور ہندوستانی سماج پر ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد

temp22

"جدید فکشن نگار سماجی نقطہ نظر کے مطابق اپنے موضوعات کا انتخاب کر رہے ہیں” – پروفیسر صغیر افراہیم

اورنگ آباد، :(ای میل) ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایک روزہ قومی سیمینار بعنوان "اردو فکشن اور ہندوستانی سماج” کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا کلیدی خطاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر صغیر افراہیم نے آن لائن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1980 کے بعد کے فکشن نگاروں میں بیانیہ انداز زیادہ نمایاں ہے اور وہ سماجی نقطہ نظر سے اپنے موضوعات کا انتخاب کر رہے ہیں۔

"ادیب وہی لکھتا ہے جو سماج میں دیکھتا اور محسوس کرتا ہے” – نور الحسنین

"بنا سماج کے کہانی کا موضوع ناممکن ہے” – پروفیسر محمد غیاث الدین

سیمینار کے مہمان خصوصی معروف اردو ادیب نور الحسنین نے ہندوستانی سماج کے اردو فکشن پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق، ادیب اپنے مشاہدات اور محسوسات کو ادبی قالب میں ڈھالتا ہے۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر محمد غیاث الدین (سابق صدر شعبہ اردو، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر) نے کہا کہ سماج کے بغیر فکشن کا تصور ممکن نہیں، اور آج کے اساتذہ کو غیر ضروری اصطلاحات میں الجھنے کے بجائے عملی کاموں پر توجہ دینی چاہیے۔

افتتاحی اجلاس کا آغاز ایم اے سال اول کے طالب علم ابو الحسن کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ سیمینار کا باقاعدہ افتتاح ڈاکٹر ویشالی کھا پڑے (ڈین، فیکلٹی آف انٹر ڈسپلنری اسٹڈیز) نے کیا، جبکہ صدر شعبہ اردو پروفیسر کیرتی مالینی و ٹھل راؤ جاولے نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شیخ اصغر نے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ شکریہ ڈاکٹر رضوانہ رہبر نے ادا کیا۔

تکنیکی اجلاسوں کی تفصیلات:

پہلا تکنیکی اجلاس پروفیسر اختر بیگ مرزا، ڈاکٹر عتیق احمد قریشی اور پروفیسر مسعود انصاری کی صدارت میں ہوا، جس میں مختلف اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس نے چھ تحقیقی مقالات پیش کیے۔ اجلاس کی نظامت خان شفاء مسرور نے کی جبکہ شکریہ خان ترانہ نے ادا کیا۔

دوسرے اجلاس میں  4 مقالات پیش کیے گئے، جس کی صدارت پروفیسر سلیم محی الدین اور آصف زکریا (پرنسپل، چشتیہ کالج خلد آباد) نے کی۔ اجلاس کا آغاز سلیمان شیخ کی نعت شریف سے ہوا، جبکہ نظامت عظمی فہیم اور شکریہ عائشہ پروین نے انجام دیا۔

تیسرے تکنیکی اجلاس میں مختلف یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرس اور کالجز کے اساتذہ نے تحقیقی مقالات پیش کیے، جس کی صدارت نور الحسنین اور پروفیسر محمد غیاث الدین نے کی۔

اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر کیرتی مالینی و ٹھل راؤ جاولے نے کی، جس میں مہمانان اور صدور نے سیمینار کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کیے۔ کامیاب انعقاد پر صدر شعبہ اردو کو مبارکباد پیش کی گئی۔ نظامت زورین صدف نے کی، جبکہ شکریہ شیخ اظہر بشیر نے اپنے مخصوص انداز میں ادا کیا۔

سیمینار کی کامیابی میں کنوینرز ڈاکٹر سہیل ہاشمی، ریسرچ اسکالرس شبانہ بیگم، نازیہ فاطمہ، فوزیہ فاطمہ، ویشال وانکھیڑے، طلبہ و تدریسی و غیر تدریسی ارکان نے بھرپور محنت کی

متعلقہ خبریں

Back to top button