غزہ میں ایک ٹانگ سے محروم باپ، بچوں کے لیے زندگی کی جنگ لڑتا محمد نصیر
جنگ نے ٹانگ چھین لی، مگر ہمت نہیں: غزہ کے محمد نصیر کی کہانی
غزہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)غزہ کی پٹی میں تباہی کے مناظر اب معمول بن چکے ہیں، مگر ان ہی کھنڈرات کے درمیان کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جو حوصلے اور انسانیت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔ جنوبی غزہ کے ایک عارضی ٹھکانے میں بوسیدہ لکڑی کی بنچ پر بیٹھا محمد نصیر ان ہی چہروں میں سے ایک ہے، جس کے گرد اس کے بچے خاموشی سے سمٹ آتے ہیں۔ ایک ٹانگ سے محروم یہ باپ جسمانی طور پر کمزور ضرور ہے، مگر اس کا عزم اب بھی مضبوط ہے۔
چوالیس سالہ محمد نصیر کا تعلق شمالی غزہ سے تھا، جہاں جنگ سے پہلے اس کی زندگی خود کفالت اور سکون کی علامت تھی۔ اس کا اپنا ہنر اور روزگار تھا، گھر آباد تھا اور بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ لیکن سات اکتوبر کے بعد شروع ہونے والی شدید بمباری نے اس کی زندگی کا رخ یکسر بدل دیا۔ ایک حملے میں اس کی ٹانگ ضائع ہو گئی اور اسی کے ساتھ ایک مسلسل نقل مکانی کا سفر شروع ہوا۔
انڈونیشین ہسپتال کے اطراف سے آغاز ہونے والی یہ جبری ہجرت محمد اور اس کے خاندان کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتی رہی۔ آخرکار وہ جنوبی غزہ پہنچا، جہاں نہ مستقل پناہ ہے اور نہ بنیادی سہولتیں۔ خوراک، پانی اور علاج جیسی ضروریات بھی ایک روزمرہ جدوجہد بن چکی ہیں۔
ان حالات میں بھی محمد نصیر نے خود کو بے بس تسلیم نہیں کیا۔ پناہ گاہ کے قریب دستیاب تھوڑی سی زمین پر اس نے سبزیاں اگانا شروع کر دیں، تاکہ اپنے بچوں کے لیے کم از کم کھانے کا انتظام ہو سکے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم صرف اتنا ہی اگاتے ہیں جتنی ضرورت ہو، کیونکہ حالات اجازت نہیں دیتے، مگر جینے کی کوشش ترک نہیں کی جا سکتی۔
محمد کا سب سے بڑا خواب علاج کی سہولت حاصل کرنا اور مصنوعی ٹانگ لگوانا ہے، تاکہ وہ دوبارہ چل پھر سکے۔ اس کے نزدیک یہ خواہش کسی آرام یا آسائش کی نہیں، بلکہ اپنے بچوں کے لیے دوبارہ سہارا بننے کی ایک کوشش ہے۔ وہ واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ ہمیں پرانی زندگی نہیں چاہیے، بس اتنا چاہتے ہیں کہ انسانوں کی طرح چل سکیں اور جینے کا حق پا سکیں۔
محمد کے بچوں کی روزمرہ زندگی بھی غزہ کے اجتماعی المیے کی عکاس ہے۔ کوئی لنگر سے کھانا لینے جاتا ہے، تو کوئی آگ جلانے کے لیے لکڑیاں تلاش کرتا ہے۔ دن خوف، غیر یقینی اور صبر کے درمیان گزرتے ہیں، جہاں امید ہی واحد سہارا ہے۔
محمد نصیر عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو محض اعداد و شمار نہ سمجھا جائے، بلکہ انسان جانا جائے۔ اس کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، مگر سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور محاصرے نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ملبے، محاصرے اور محرومی کے اس ماحول میں محمد نصیر آج بھی امید کی کاشت کر رہا ہے۔ ایک ایسی امید جو نہ صرف اس کے بچوں بلکہ پورے غزہ کے لیے زندگی کی علامت بن چکی ہے۔



