بین الاقوامی خبریں

غزہ میں 10 لاکھ افراد کو موسم سرما میں مناسب رہائش دستیاب نہیں: اقوام متحدہ

غزہ کی پٹی میں جاری دشمنانہ کارروائیوں کے سبب فلسطینیوں کو اب بھی سنگین خطرے کا سامنا ہے۔

فلسطین ،غزہ 30نومبر ( ایجنسیز) اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی امدادی سرگرمیوں کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری دشمنانہ کارروائیوں کے سبب فلسطینیوں کو اب بھی سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ بالخصوص عام شہری جو غزہ کی پٹی کے شمال میں اسرائیل محاصرے سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے چیف کمشنر فلپ لازارینی کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں گذشتہ سات ہفتوں کے دوران میں 1.3 لاکھ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے رابطہ کار دفتر OCHA کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں جس میں غزہ شہر بھی شامل ہے، گھریلو گیس کی شدید قلت نے فلسطینی گھرانوں کو ایندھن کے حصول کے لیے کچرا جلانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس کے سبب سانس کے نظام کے مختلف امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ادھر عالمی خوراک پروگرام کا کہنا ہے کہ بھوک کے بحران کے ابتر ہونے کے ساتھ بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 1000% تک اضافہ ہو چکا ہے۔

اگرچہ کچھ عرصہ قبل غزہ کے وسط میں روٹی کے سات تندوروں نے کام شروع کر دیا تھا تاہم آٹے اور ایندھن کی کمی کے سبب یہ تندور وقفے وقفے سے کھلتے اور بند ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر مرتبہ روٹی وہ واحد چیز ہوتی ہے جسے غزہ کے فلسطینی گھرانے بھوک کم کرنے کے لیے حاصل کر پاتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے جمعے کے روز بتایا کہ غزہ کی پٹی بھوک کے سائے میں انارکی کا شکار ہو چکی ہے۔ یہاں لوٹ مار کی کارروائیاں پھیل گئی ہیں جب کہ پناہ کے مراکز میں آبرو ریزی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق آفس کے ڈائریکٹر اجیت سنگھے نے تباہ حال غزہ کی پٹی کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ اہلیان غزہ کے مصائب اور دکھ درد کی حقیقت جاننے کے لیے ان کا آنکھوں سے دیکھا جانا نا گزیر ہے۔

اجیت نے غزہ شہر کی صورت حال کو "ہول ناک” قرار دیا جہاں ہزاروں بے گھر افراد جزوی تباہ شدہ عمارتوں یا عارضی خیموں میں غیر انسانی حالات میں رہ رہے ہیں۔ یہ افراد غذا کی شدید کمی اور صحت کے حوالے سے خوف ناک صورت حال کا شکار ہیں۔

اجیت کے مطابق انھوں نے غزہ کی پٹی میں پہلی مرتبہ درجنوں خواتین اور بچوں کو دیکھا جو کچرے کے بڑے ڈھیروں میں کچھ تلاش کر رہے تھے۔ جن خواتین سے اجیت کی ملاقات ہوئی وہ اپنے گھرانے کے افراد کو کھو چکی تھیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ ملبے تلے دفن ہو گئے۔

اجیت سنگھے نے خبردار کیا کہ "غزہ میں تباہ کی سطح میں بد ترین اضافہ ہو رہا ہے۔ میں نے جس سے بھی ملاقات کی اس کی ایک ہی مشترکہ اپیل تھی کہ اب یہ سب رک جانا چاہیے، بہت ہو گیا ، براہ کرم اب بس کر دیں، بہت ہو چکا !”.

مذکورہ عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ "اقوام متحدہ کو ایسے 70 ہزار افراد تک امدادی سامان پہنچانے سے روک دیا گیا جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ابھی تک غزہ کے شمال میں رہ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے انسانی امداد کے قافلوں کو واپس بھیج دیا”۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے ترجمان جیرمی لارنس غزہ کی پٹی میں فوری فائر بندی پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ” قتل و غارت کی کارروائیاں روک دی جانی چاہئیں، قدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور فلسطینی جبری گرفتار شدگان کو آزاد کیا جانا چاہیے”۔

لارنس کے مطابق غذا، دواؤں اور دیگر اہم امداد کی مکمل مقدار پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے جس کی اس وقت غزہ کی پٹی میں شدید ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button