سرورققومی خبریں

ون نیشن، ون الیکشن: لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے پر غور

مشترکہ کمیٹی کی مدت میں توسیع، نیا مجوزہ منصوبہ

انتخابی نظام میں بڑی تبدیلی کی توقع

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کے مجوزہ بلوں پر غور کرنے کے لیے تشکیل دی گئی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کی مدت میں توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ 25 مارچ کو لیا گیا جب کمیٹی کو مانسون اجلاس کے آخری ہفتے تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔

مشترکہ کمیٹی کی مدت میں اضافہ

پارلیمنٹ کی 39 رکنی مشترکہ کمیٹی کو دو اہم بلوں – ‘آئین (129 ویں ترمیم) بل، 2024’ اور ‘یونین ٹیریٹری لاز (Union Territory Laws)(ترمیمی) بل، 2024’ – پر غور کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان بلوں کا مقصد لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات کو ایک ساتھ کرانے کا انتظام کرنا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ پی پی چودھری نے لوک سبھا میں کمیٹی کی مدت میں توسیع کی تجویز پیش کی، جسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان بلوں پر گہرائی سے غور کرے اور حتمی سفارشات پیش کرے۔

رپورٹ پیش کرنے کے لیے وقت مقرر

یہ دونوں بل 17 دسمبر 2023 کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے تھے۔ اب کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مانسون اجلاس کے پہلے ہفتے تک اپنی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل انتخابی عمل کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھے جا رہے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوگی۔

سابق صدر کی قیادت میں کمیٹی کی حمایت

یہ مجوزہ اقدام سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے۔ اس کمیٹی نے ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ کے نظریے کی حمایت کی تھی۔ ان سفارشات کی بنیاد پر حکومت نے دو بل پیش کیے، جن میں ایک آئینی ترمیمی بل اور دوسرا یونین ٹیریٹری لاز (ترمیمی) بل شامل ہے۔

انتخابی نظام میں بڑی تبدیلی کی توقع

اس معاملے پر غور کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پی پی چودھری کی صدارت میں 39 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اگر یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتے ہیں، تو ہندوستان کے انتخابی نظام میں ایک بڑی اصلاح متوقع ہے، جس سے انتخابی عمل مزید آسان اور بہتر ہو سکے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button