غزہ میں صرف 50 زندہ اسرائیلی یرغمالی باقی ہیں: امریکی اخبار
66 قیدیوں کی موت ہو گئی
نیویارک، 21 جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے سابقہ اندازوں میں 7/ اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں 116 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 25 سے زیادہ کی موت کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تاہم اب ایک باخبر امریکی اہلکار نے مرنے والے یرغمالیوں کی اس سے زیادہ تعداد کی نشاندہی کر دی ہے۔7 اکتوبر کو حماس کے زیرقیادت حملے میں 250 کے لگ بھگ قیدیوں میں سے 116 غزہ کے اندر یرغمال ہیں جن میں بہت سے ایسے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق قیدیوں سے متعلق بات چیت میں کچھ ثالثوں اور تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس معلومات سے واقف ایک امریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اب بھی زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی تعداد 50 تک پہنچ سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 66 قیدیوں کی موت ہو گئی ہے۔
امریکی انٹیلی جنس، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور اسرائیلی فوج نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔تاہم قبل ازیں حماس نے ثالثوں مصر اور قطر کو آگاہ کیا تھا وہ نہیں جانتا کہ غزہ کے اندر کتنے قیدی اب بھی زندہ ہیں۔ حماس نے جون 2024 کے وسط میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ دو یرغمالی غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح پر اسرائیلی فوج کے حملے میں مارے گئے تھے۔حماس یہ بھی اعلان کر چکی کہ نو جون کو نصیرات کیمپ سے چار یرغمالیوں کو رہا کرانے کے اسرائیلی آپریشن میں تین یرغمالی مارے بھی گئے تھے۔ اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کئی مہینوں سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یرغمالیوں کے اہل خانہ نے حال ہی میں اپنے مظاہروں میں شدت پیدا کردی ہے۔



