قومی خبریں

’دَل بَدل‘ پر صرف پارلیمنٹ کو ہی قانون بنانے کا اختیار: سپریم کورٹ

نئی دہلی، یکم جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #سپریم #کورٹ نے جمعرات کے روز کہا کہ آئین کے دسویں شیڈول کے تحت ایوان کے اسپیکر کی طرف سے نااہلی کی درخواستوں کو بروقت نمٹانے کیلئے قانون بنانا مقننہ کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہریشکیش رائے کی بنچ نے کہاکہ ہم قانون کیسے بنا سکتے ہیں، یہ #پارلیمنٹ کا معاملہ ہے۔

عدالت مغربی بنگال ریاستی کانگریس کمیٹی کے ممبر رنجیت مکھرجی کی اس درخواست پر سماعت کررہی تھی، جس نے مرکز سے نااہلی کی درخواستوں کے بروقت نمٹارے کیلئے صدور کے لئے رہنما اصول وضع کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی تھی۔سماعت کے دوران ایڈوکیٹ ابھیشیک جیب راج نے کہا کہ نااہلی کی درخواستوں پر مقررہ مدت کے اندر فیصلہ کرنے کے لئے رہنما خطوط تیار کرنے کے لئے #درخواست دائر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ایک مقررہ مدت کی حد چاہتے ہیں کیونکہ #اسپیکر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں دے رہے ہیں اور دسویں شیڈول کے تحت بروقت فیصلے نہیں کررہے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ میں #کرناٹک کے ایم ایل اے کیس میں پہلے ہی اپنی رائے دے چکا ہوں۔ اسی معاملے میں یہ مسئلہ بھی سامنے آیا تھا اور سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے بھی اس پر اپنے دلائل پیش کئے تھے، ہم نے یہ فیصلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا تھا۔بنچ نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ کیا اس نے فیصلہ پڑھا ہے؟ اس پر جبراج نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہے۔ بنچ نے کہاکہ آپ فیصلہ پڑھیں اور پھر واپس آئیں، ہم اس معاملے کو دو ہفتوں کے بعد سنیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے ممبران اسمبلی کی نااہلی کے معاملے پر سماعت کے دوران، 13 نومبر، 2019 کو مشاہدہ کیا تھا کہ اسپیکر کے پاس یہ بتانے کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ ایک ممبر اسمبلی کب تک نااہل رہے گا یا اسے انتخابات لڑنے سے روک سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button