دنیا میں بہت سے کامیاب ترین انسانوں کو دیکھیں تو انہوں نے اپنی کمزوری کواپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا اور اپنی منزل مقصود کو حاصل کر کے ہی دم لیا۔دنیا میں ایسے بے شمار کامیاب لوگ ہیں جنہیں اپنے ابتدائی دور میں بہت سی ناکامیوں کا سامنا کیا۔ دکھ کا سامنا کیا،ان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹا،حالات نے ان کو روکنا چاہا لیکن وہ رکے نہیں ،ڈرے نہیں ، گھبرائے نہیں اور ہر قسم کے برے حالات کا سامنا کیا اور آگے بڑھتے ہیں رہے۔
فلاں دن سے یہ کام شروع کروںگا: پہلا جملہ کہ میں جمعہ کے دن سے یہ کام شروع کروں گا کیونکہ جمعہ کا دن بہت اچھا ہوتا ہے ۔یا اتوار کے دن سے یہ کام کروں گا کیونکہ اس دن عام طور پر چھٹی رہتی ہے اور بہت کچھ سوچنے کا وقت مل سکتا ہے ۔یا پیر سے یہ کام شروع کروں گا یہ دن میرے لیے بہت لکی ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے آپ سے بات کرتے ہیں تو ہم کاموں کو تاخیر کرنے میں ماسٹر ہوتے چلے جاتے ہیں اورہم پھر وہ کام کبھی بھی نہیں کرتے ہیںکیونکہ ہم ایکشن لینے سے گھبراتے ہیں ڈرتے ہیںمحنت کرنے سے گھبراتے ہیں اوراسی وجہ سے ہم اپنے کمفرٹ زون میں رہنا پسند کرتے ہیں۔جس دن ہم نے اپنا آ ج کا کام کل پر ڈالا تو اس کا مطلب یہ کے ہم اپنی زندگی میں ایک دن پیچھے ہوگئے ہیں۔
اس کی تقدیر بہت اچھی ہے اور میری تقدیر بہت خراب ہے:دوسرا جملہ اکثر ہم کہتے ہیں کہ یار اس کی تقدیر بہت اچھی ہے اور میری تقدیر بہت خراب ہے۔جب ہم اپنا سب کچھ اپنی تقدیرپر ڈال دیں تویہ بھی بہت ہی غلط بات ہے بہت سے لوگ تقدیر یا قسمت کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ کرے یا ناکرے جو کچھ مقدر میں ہے وہ انہیں ملتا رہے گا۔یہ تصور درست نہیں ہے ۔انسان کو جو کچھ ملنا ہے اور جتنا کچھ ملتا ہے وہ بلاشبہ طے ہے مگر ساتھ میں تقدیر میں یہ بھی لکھ دیا ہے انسان جو بھی کرے گا اسے اسی حساب سے دیا جائے گا۔
تقدیرکو بدلنا اللہ تعالی نے انسان کے اختیار میں رکھا ہے ۔ تقدیر ہمیشہ محنت کرنے والوں کا ہی ساتھ دیتی ہے۔پیڑ، پودے،پتھر،پہاڑ اورچٹانیں یہ سب تقدیر کے پابند ہوتے ہیں۔مومن کا تو معاملہ ہی مختلف ہے۔وہ اس دنیا میں صرف اللہ کے احکام کا پابند ہوتا ہے وہ تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھ جانے والا نہیں ہوتا۔ وہ مسلسل جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔اپنے مقصد ،منزل کو پانے کے لیے مسلسل محنت کرتا ہے ۔ کیونکہ کامیابی حتمی ہوتی ہے اور نا ہی ناکامی بلکہ اصل چیز کوشش کو جاری رکھنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔
محنت کی بہترین مثال حضرت محمدﷺ نے پیش کی یاد کیجیے اس دور کو جب پوری دینا جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی تو ایسے میں آقا محمد ﷺ نے محنت ،لگن اور ایک اللہ پر ایمان رکھا اور اسلام کی روشنی ساری دنیا میں پھیلا دی۔ہتھیار کی کمی کے باوجود جنگوں میں فتح حاصل کی۔ آپﷺ نے محنت کی عظمت کا عملی نمونہ پیش کیا ہے انسان چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوا تو وجہ تقدیر نہیں محنت تھی۔ ہر انسان چاہتا ہیکہ وہ اچھی تقدیر کا مالک بن چائے اگر زندگی میں کوئی پریشانی ہو کوئی مسئلہ ہو یا کسی چیز میں کوئی نقصان ہوجائے تو وہ یہ سوچتا ہے کہ میری تقدیر خراب ہے اور پھر مایوسی کے دلدل میں ڈوب جانے لگتا ہے۔
اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے: تیسرا جملہ یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے بچائو کے لیے کہتے ہیں کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے میرا اتو کوئی قصور نہیں ہے ایسا میں نے نہیں کرسکتا ہے۔اصل میں ہم اپنی غلطی کو قبول ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم ایسا کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ایکشن یا عمل کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے ہیں اور بہت ہی آسانی کے ساتھ دوسرو ں پرالزام ڈال دیتے ہیں اور دوسروں پر الزام ڈالنا یہ بہت ہی آسان ہوتا ہے۔
اگر ہم خود ذمہ داری قبول کر لیں توہم اپنے دماغ کو کس طرح سے مطمئن کریں گے؟
ہمارا دماغ تو جب ہی مطمئن ہوگاجب ہم اسے کچھ وجوہات پیش کرتے ہیں اورہم بہت آسانی سے اسے وجوہات فراہم کردیتے ہیں کہ دوسرے شخص نے کام نہیں کیا تھا۔میرے دوست نے ساتھ نہیں دیا۔میرے والدین کی غلطی ہے انہوں نے میری صحیح رہنمائی نہیں۔ حکومت کا قصور ہے ۔بورڈ والوں نے بہت سخت پرچہ نکالا تھا۔اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔توآج سے یہ جملہ کہنا بند کر دیں اور اپنی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھایئے اپنی زندگی کا کنڑول خود اپنے ہاتھ میں رکھیے۔
چوتھا جملہ جو اکثر ہم سنتے ہیں ’’میرے پاس وقت نہیں میرے پاس ٹائم نہیں ہے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے صحیح منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ ٹائم مینجمینٹ نہیں سیکھا ہے۔ حالانکہ ہمارے مذہب میں وقت کو بہت ہی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ٹائم مینیجمینٹ ہمارے سے اچھا کوئی کرنہیں سکتا ہے۔ٹائم مینجمینٹ کی سب سے اچھی مثالوں پانچوں وقت کی نماز ہے۔حج مخصوص مہینے میں کرتے ہیں۔روزے کا خاص مہینہ ہے۔افطار اور سحری کے وقت مخصوص ہیں ہم کبھی بھی سحری اور روزہ نہیں کھول سکتے ہیں۔دوپہر میںہم کبھی افطاری نہیں کریں گے۔
عیدالاالضحی کی نماز سے پہلے کبھی قربانی نہیں کریں گے۔اگر ہم اپنے ٹائم کو مینیج کرنا نہیں جانتے تو اپنی زندگی میں کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔تو آج اور ابھی سے اس مہارت کو سیکھ لیں کے اپنے اہم اور ارجنٹ کام کوکس طرح سے انجام دیں کہ ہمارا شمار کامیاب ترین لوگوں میں ہو۔
میں یہ کام نہیں کر سکتا‘:ایک اورجملہ جن میں ہمت نہیں ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ’’ میں یہ کام نہیں کر سکتا‘‘ یا’’ یہ میرے بس کا نہیں ہے۔‘‘ یہ جملہ کہہ کر ہم اپنے آپ کو ایسا بتا تے ہیں کہ اس کام کو کرنے کے لیے ہم نے کوشش ہی نہیں کرنی ہے۔یہ کام ہمارے بس کاہے ہی نہیں ہے ہم یہ کام کر ہیں نہیں سکتے ہو۔جب ہم ایسا کرتے ہیں یا ایسا سوچتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے ہار مان لی ہے ہم میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے ،طاقت نہیں ہے۔
جب ہم خود ہی ہار مان لی ہے اپنی کمزوری کا احساس کراد یا ہے تو اہم کیسے اس کام کو انجام دیںگے۔ہم اپنے کمفرٹ زون سے کیسے باہر نکلیں گے؟ اگر کامیاب بننا چاہتے ہیں اس قسم کے جملوں کو استعمال کرنا آج سے ہی بند کردیں آج سے ہی ان جملوںکو مثبت طور پر استعمال کریں آپ کو ہمت ملے گی اور آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں جیسے کے دوسرے لوگوں نے بھی کیا ہے اور وہ کامیابی کی بلند چوٹیوں پر پہنچے ہیں۔تو پھر آپ کیوں نہیں؟



