
کرہ ارض پر جب سے تہزیب و تمدن نے فروغ پایا نیز اسے ارتقا بخشی قانون سازی کے ذریعے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کا سلسلہ جاری رہا، معاشرے کے تحفظ کی ضمانت معاشرے کے امن و سلامتی پر انحصار رہتی ہے، گذشتہ نصف صدی سے دنیا پوری میں حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں، سرد جنگ کے خاتمے پر امریکہ واحد کرہ ارض پر دنیا کا سب سے طاقتور ملک بن گیا، نتیجہ دنیا پوری میں بسنے والے تمام ممالک امریکہ کے ساتھ اس کے ہاں میں سر تسلیم خم کرتے مزید امریکہ کے نہ میں اس سے خلاف معرکہ کرنے سے کتراتے رہے امریکہ میں ٹوین ٹاورز کو شاطرانہ حکمت عملی کے تحت زمین دوز کردیا گیا۔
آنافاناً امریکہ نے الزام القاعدہ تنظیم پر عائد کردیا امریکہ نے اتحادی بنائے دنیا کے بیشتر طاقتور ممالک امریکی اتحاد کا حصہ بنے امریکیوں سے ناراضگی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں سمجھی جانے لگی ، امریکہ و اتحادیوں نے اقوام متحدہ کو بالائے طاق رکھ کر عراق پر حملہ کردیا یہ کہ کر کہ عراق میں ویپن آف ماس ڈسٹرکشن ہے جو ہر ملک کے لئے باعث خطرہ ہے۔
عراق کو تباہ کر دیا عراق کے صدر صدام حسین کو گرفتار کر کے موصوف پر مقدمہ دائر کردیا ظلم کو قانونی شکل کے پہراہن میں ڈھالا گیا، لہذا ٢٠٠٦ میں عدالت نے عراق کے صدر صدام حسین کو پھانسی دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے صدر صدام حسین کو صبح کے وقت پھانسی دے دی، عراق حکومت کا خاتمہ صدام حسین کی شہادت سے ارتقا کو پہنچا۔
امریکہ و اتحادیوں کا قافلہ عراق تک محدود نہیں رہا امریکہ نے لبیا میں فوجی کارروائی کرکے لبیا کو تہس نہس کردیا نیز لبیا کے صدار جنرل قدافی کو ہلاک کردیا، مصر میں حسن مبارک کا تختہ الٹ دیا، نیز امریکہ نے اپنیحکمت عملی کے تحت شام، یمن، مصر میں اپنی اجارہ داری قائم کی، انتمام ممالک میں گزشتہ بیس سال سے جنگی تشدد برپا کرکے ایک کروڑ سے زائد افراد ہلاک کر دیے۔
بہر کیف امریکہ واتحاد کے قافلے کو افغانیوں نے زیر کردیا امریکہ کے اتحادی جستہ جستہ امریکہ کا ساتھ چھوڑتے چلے گئے بلاآخر امریکہ کو افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی، دنیا پوری میں عالمی طاقت رکھنے والا ملک غریب خستہ حال ملک سے شکست تسلیم کرنے پر امریکہ مجبور ہو گیا، یہ افغانیوں کی فتح ان کے مال وجان کے طوفیل اللہ نے انہیں عطاء کی، اسی اثناء عالمی ادارہ برائے صحت نے اعلان جاری کردیا کوویڈ۱۹؍نےوباء کی صورت اختیار کرلی، دنیا کا ہر ممالک اس وباء کے ذد میں آگیا یا پھر لایا گیا۔
ظلم ایک بار پھر سے قانونی شکل میں نمودار ہوا، کرونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا کو صہیونی طاقت نے منجمد کردیا عوام کو بلجبری طاقت کے زور پر اپنے ہی گھروں میں قید کر دیا گیا، عالمی معیشت کو سمندر میں غرق ہوتے عوام دیکھنے لگی خوشحال عوام زبو حالی کی سمت بڑھ گئی، کروڑوں افراد سطح غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ظلم انتہا کو پہنچا، دنیا کے ہر ملک کی حکومت نے تمام اسپتالوں کو حکومتی تحویل میں لے لیا۔
عوام کو مجبور کردیا علاج صرف سرکاری اسپتالوں میں ہوگا، یہ ظلم کے زمرے میں آتا ہے جب انسان سے اس کی آزادی چھین لی جاتی ہے یہ جھوٹی دلیل دے کر کے حکومت عوام کے فلاح وبہبود کے لئے کوشاں ہیں، انسان سے اس کے خود فیصلے کرنے کی صلاحیت کو صلب کرکے حکومت نے اسے اپنے ناجائز حکم پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کردیا، کرونا کے مریض سے اسکو اپنے مرضی کے مطابق علاج کرنے کا حق صلب کر دیا گیا تھا۔
بھارت میں کوویڈ۱۹؍سے ٤٧ لاکھ افراد جاں بحق ہوئے دنیا میں اول نمبر کوویڈ سے مرنے والوں میں بھارت نے حاصل کی، آج بھی کرونا وائرس کو حکومت نے زندہ رکھا ہے جب چاہے اس کے تناسب کو بڑھا کر عوام کو دہشت زدہ ماحول بنا کر ہراساں کرنا یہی کچھ حکومت کا شیوہ بنا ہوا ہے، بے بس خوف ذدہ عوام محض بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ھانکی جارہی ہے، ظالم حکمران انتہائی خوبصورتی سے ظلم کو قانونی شکل دینے میں مہارت رکھتے ہیں، کوویڈ۱۹؍سے قبل شاہین باغ کا احتجاج دنیا پوری میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، یہ احتجاج قانون کے خلاف ہو رہا تھا حکومت نے ایسے قانون سازی کی جس سے ملک کی اقلیت میں غم و غصہ دیکھا جانے لگا۔
این آر سی ، سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں شاہین باغ کی طرز پر احتجاج شروع ہوچکے تھے، بھارت دنیا پوری میں توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، عوام کے لئے ظلم کو سمجھنا شعوری شے ہے، کروڑوں افراد پر قانون کے ذریعے ظلم مسلط کرنے کا فیصلہ حکومت لے چکی ہے، تاہم وقت ان کے ظلم کو روک رہا ہے اللہ اپنے بندوں کی حفاظت ہر صورت کرتا ہے ایسے اسباب پیدا ہوئے جس سے حکومت قانون کو نافذ کرنے میں ناکامیاب ہوگئی۔
بہر کیف حکومت کا عزم ہے این آر سی، سی اے اے کا انعقاد جلد عوام پر ہوگا، حکومت کا مقصد عوام سے آذادی کو صلب کرنا، بھارت میں اقلیت کے تعلق سے منظم طریقہ کار و حکمت عملی حکمران جماعت نے لے رکھی ہے، اقلیت مغموم ہوچکی ہے۔
مزید حکومت کے اشارے عدالتیں خوب سمجھتی ہے، فوارے کو شیو لنگ اب عدالت ہی ظاہر کرے گی، انصاف کا گرتا معیار ہر سطح پر صاف نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے اقلیتی دشمنی سے ہمسایہ ملک سری لنکا دیوالیہ ہو چکا۔ہمارے حکمران بھی کم وبیش وہی کررہے ہیں جو سری لنکا کے حکمران کر چکے، ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا، مہنگائی سے عوام دل برداشتہ ہے ، اللہ کی زمین پر لوگوں کے خوراک کو سنگین مسلہ بنایا جانے کا مسمم ارداہ دنیا کی حکومتیں لے چکی یہ اعلانیہ دنیا کے ہر ملک میں زور وشور سے جاری ہونے لگا ہے۔
مستقبل قریب میں خوراک و غذائی اجناس کے قلت کا سامنا ملک میں درپیش آئے گا، بہر کیف اللہ قران میں فرماتے ہیں سورہ ھود آیت نمبر ٦ ترجمہ ” اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نے ہو ، اور وہ ہر ایک کی جگہ جہاں وہ رہتا ہے اسے بھی جانتا ہے اور جہاں وہ عارضی رہتا ہے اسے بھی یہ سب کچھ روشن کتاب میں لکھا ہے” سہیونی اللہ کے مقابلہ پر اتر آئے ہے، مصنوعی غذائی اجناس کی قلت اب انسان پر مسلط ہونے کو ہے، ان ظالموں کا حشر اللہ کے حضور جلد ہوگا۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین



