آٹھویں کےایک طالب علم نے راقم الحروف سے کہا کہ مولوی صاحب کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اور انکی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہے تو میں نے کہا کہ کسی کا جنازہ پڑھانا ہو ، مولوی صاحب کو بلاؤ ،قرآن خوانی کرانی ہو، مولوی صاحب کو بلاؤ ، کسی نومولود بچے کے کان میں اذان دینی ہے مولوی صاحب کو بلاؤ کسی کا نکاح پڑھوانا ہے تو مولوی صاحب کو بلا ؤ یہ سب ذمہ داری ہوتی ہے
مولوی صاحب کی ہم مولوی صاحب کو عزت اور مقام تو بہت دیتے ہیں لیکن تنخواہ اتنی نہیں دیتے ،جس سے وہ معاشرے میں باوقار طریقے سے زندہ رہ سکیں ،اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا کسی اچھے اسپتال میں علاج کروا سکیں ،کسی معیاری تعلیمی ادارے میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکیں یہی وجہ ہے کہ مولوی صاحب کے بچے مولوی تو بن سکتے ہیں ، انجینئر ، اس ڈاکٹر، سائنس دان ، سرکاری افسر، آرمی چیف بننا ان کے مقدر میں نہیں ہوتا ۔
امام کے مصلے پر صرف وہی شخص کھڑا ہوسکتا ہے جو نبی کریم ﷺ جیسی صفات کا عکس ہو دوسرے لفظوں میں سب سے بہترین شخص کو امامت کے مصلے پر کھڑاکیاجاتاہے لیکن اس اعلی ترین شخص کو ہم کم ترانسان سے بھی کم تنخواہ دیتے ہیں۔
میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا علماء اور حفاظ اتنے کم پیسوں میں زندگی گزار سکتے ہیں اور کیا ہم اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھی اتنی تھوڑی رقم سے بھر سکتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ امام صاحب اور دینی مدرسے کے سینئر ترین استاد حفاظ کرام کو بمشکل آٹھ سے بارہ ہزار روپے ہی ملتے ہیں۔
سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات تنخواہ کا 75 فیصد پنشن ملتی ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت بھی لیکن امام صاحب یا حفاظ کرام اگربوڑھے ہوجائیں یا کسی بیماری کی وجہ سے معذور ہوجائیں اور امامت یا بچے پڑھانے کے قابل نہ رہیں تو انہیں اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے ۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم اپنی سارے مطلب کے کام تو علماء اور حفاظ سے لے لیتے ہیں اور انھیں شکریہ اور جزاک اللہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں ہم میں سے ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ ان کو تو آسمان سے ہی حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کی طرح من و سلوی اترتا ہوگا۔
جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب تقریر کر رہے تھے درمیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھا لئے گئے تو مجمع میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ آسمان پر کیا کھاتے ہیں تو اس پر امام صاحب نے اس شخص پر طنز کرتےہوئے کہا کہ ان کی بڑی فکر ہے اور میں کیا کھاتا ہوں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔
حقیقت میں علماء وحفاظ کس کسمپرسی میں اپنا گزارہ کرتے ہیں عوام کو اس سے لینا دینا نہیں رہ گیا ہے لہٰذا تمام مساجد کے ٹرسٹیان سے اور ان والدین سے جو اپنے بچوں کو حفاظ سے قرآن پڑھواتے ہیں ۔
یہ عرض ہے کہ قرآن وحدیث تمام مسلمانوں کا مشترکہ دینی، ایمان وایقان کا خزانہ اور منبع وسرچشمہ ہے اور علمائے کرام حفاظ عظام اس قیمتی منبع وسرچشمہ خزانے کے امین وباسباں ہیں انھوں نے اس قیمتی ایمانی خزانے کی حفاظت میں اپنے زندگیوں کو وقف کر دیا ہے لہذا ملت اسلامیہ کے ہر فرد پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ علمائے کرام وحفاظ کرام کی ضروریات اور ان کے نام ونفقہ کا بھی خیال رکھیں۔
ورنہ اگر وہ بھی تمہاری طرح دنیا کمانے کے لئے مارکیٹ میں اترجائیں گے تب تمہاری نسلوں کو دین سکھانے والا قرآن سکھانے والا کوئی نہ ملے گا اور جہالت نسلوں میں سفر کریگی اورمزید دوسرے جو نقصانات ہونگے وہ الگ ہیں اللہ ہم سب کو علمائے کرام وحفاظ کرام کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔
حافظ محمد الیاس



