قومی خبریں

مہاراشٹر الیکشن میں ہمارے ووٹ کم نہیں ہوئے،بلکہ دھاندھلی کی گئی:راہل گاندھی

مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگی کا الزام الیکشن کمیشن نے کہا:’ہم ان الزامات کا تحریری جواب دیں گے ‘

نئی دہلی،7فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مہاراشٹر انتخابات میں دھاندلی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں ہمارے ووٹ کم نہیں ہوئے ہیں، بلکہ بی جے پی کے ووٹ بڑھے ہیں۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ مہاراشٹرا میں گزشتہ 5 سالوں میں 32 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا،لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات کے درمیان 39 لاکھ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے اتنے ووٹر کہاں سے آئے؟

راہل گاندھی نے این سی پی شرد پوار لیڈر سپریہ سولے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے ساتھ دہلی میں پریس کانفرنس کی۔ اس میں انہوں نے کہا، مہاراشٹر حکومت کے مطابق ریاست میں 9.54 کروڑ بالغ ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مہاراشٹر میں 9.7 کروڑ ووٹر ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ کمیشن عوام کو بتا رہا ہے کہ مہاراشٹر میں آبادی سے زیادہ ووٹر ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ کماٹھی اسمبلی سیٹ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو لوک سبھا میں 1.36 لاکھ اور اسمبلی میں 1.34 لاکھ ووٹ ملے لیکن بی جے پی کا ووٹ 1.19 لاکھ سے بڑھ کر 1.75 لاکھ ہو گیا۔ یعنی نئے ووٹروں نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ ہمیں دونوں انتخابات کے لیے ووٹر لسٹ کی تفصیلات درکار ہیں۔

انھوں نے الیکشن کمیشن پر انگلی اٹھائی اور کچھ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ انتخاب کو متاثر کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اب الیکشن کمیشن نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے الزامات کا جواب تحریری شکل میں دے گا۔الیکشن کمیشن نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیے گئے پوسٹ میں کمیشن نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی پارٹیوں کو ایک اہم اسٹیک ہولڈر کی شکل میں دیکھتا ہے۔ ہمارے لیے ووٹرس سب سے اہم ہیں، لیکن ہم سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ دیے گئے کسی بھی مشورہ اور اٹھائے گئے سوالات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن ملک بھر کے انتخابات میں یکساں طریقے سے اختیار کیے گئے پوری طرح سے دلائل پر مبنی اور عمل پر مبنی میٹرکس کے ساتھ سبھی سوالوں کا تحریری شکل میں جواب دے گا۔قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے جمعہ کے روز کی گئی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر اسمبلی میں غلط طریقے سے کام کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ووٹر لسٹ میں کئی طرح کی غلطیاں پائی گئی ہیں۔ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) لیڈران کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بتایا کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخاب میں کئی طرح کی بے ضابطگیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ راہل گاندھی نے یہ بھی بتایا کہ لگاتار ووٹرس اور ووٹر لسٹ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس کی مزید گہرائی سے جانچ کے لیے لوک سبھا انتخاب اور اسمبلی انتخاب کی ووٹر لسٹ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آخر یہ نئے اضافی ووٹرس کون ہیں۔ آخر کیسے ایک بوتھ کے بیشتر ایس سی اور ایس ٹی ووٹرس کو دوسرے بوتھ پر بھیج دیا گیا۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر انگلی اٹھاتے ہوئے جانکاری دی کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مبینہ بے ضابطگی کے بارے میں جواب مانگا تھا، لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب حاصل نہیں ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑی تو ہے۔کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنے الزامات کو مضبوطی کے ساتھ میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہاں پر کوئی ہوا ہوائی الزام نہیں لگا رہا ہوں، جو ڈاٹا ہمارے پاس دستیاب ہے اسے دِکھا بھی رہا ہوں۔

ووٹروں کے نام بڑے پیمانے پر حذف کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر دلت ہیں۔ الیکشن کمیشن سوالوں کا جواب نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن انتخابات میں شفافیت کا ذمہ دار ہے۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن سے مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ مانگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیں فہرست کیوں نہیں دے رہا۔ ہمیں ووٹر لسٹ کی مکمل معلومات درکار ہیں۔اس کے بعد الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے راہل نے کہا کہ سی جے آئی کو الیکشن کمشنر کی تقرری کرنے والی کمیٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل دو نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کی گئی تھی۔

پریس کانفرنس میں سنجے راوت نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس ضمیر ہے تو اسے راہل گاندھی کے سوالوں کا جواب دینا چاہیے، لیکن الیکشن کمیشن غلام کی طرح کام کر رہا ہے۔اب یہ 39 لاکھ ووٹر بہار جائیں گے۔ یہ تیرتے ووٹر ہیں۔ پہلے ہم بہار جائیں گے اور پھر یوپی جائیں گے۔ ہمیں مہاراشٹر میں شکست ہوئی، میں الیکشن کمیشن سے اپیل کروں گا کہ آپ کھڑے ہوں، اپنے اردگرد سے کفن ہٹائیں اور جواب دیں۔

این سی پی شرد پوار لیڈر سپریہ سولے نے کچھ سیٹوں پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان حلقوں میں بھی بیلٹ پیپر پر دوبارہ انتخابات کرائے جائیں جہاں ہمارے امیدوار جیتے تھے۔ 11 سیٹیں ایسی ہیں جہاں انتخابی نشانات کے درمیان کنفیوژن کی وجہ سے ہم الیکشن ہار گئے تھے۔ یہاں تک کہ اقتدار میں موجود پارٹی نے بھی اسے تسلیم کر لیا ہے۔ ہم نے توتاری سے نشان تبدیل کرنے کی کئی درخواستیں کیں، لیکن درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ ہم صرف الیکشن کمیشن سے منصفانہ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button