سرورققومی خبریں

150 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے دنوں میں ہٹ ا ینڈ رن وضع ہوا: راہل گاندھی

بغیر بحث کے قانون بنانے کی ضد جمہوریت کی روح پر مسلسل حملے کے مترادف

نئی دہلی، 2 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ہٹ اینڈ رن قانون اور ٹرک ڈرائیوروں کے احتجاج پر مرکزی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر بحث کے قانون بنانے کی ضد جمہوریت کی روح پر مسلسل حملے کے مترادف ہے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب 150 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ کو معطل تھے تو پارلیمنٹ میں ہندوستانی معیشت کی ریڑھ ڈرائیوروں کیخلاف قانون بنایاگیا، جس کے نتائج مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ محدود کمائی والے اس محنتی طبقے کو سخت قانونی بھٹی میں جھونک دینا ان کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ نیز اس قانون کا غلط استعمال منظم بدعنوانی کے ساتھ بھتہ خوری کے طریقہ کار کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ جمہوریت کو چابک سے چلانے والی حکومت شہنشاہ کے فرمان اور انصاف میں فرق بھول چکی ہے۔

خیال رہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں لاپرواہی کے بارے میں بیان کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس دوران سرمائی اجلاس میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو توہین پارلیمنٹ کے نام پر معطل کر دیا گیایاد رہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ٹرک ڈرائیورز سڑک حادثات کے ‘ہٹ اینڈ رن’ کے کے تعلق سے نئے تعزیراتی قانون کی شقوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ تعزیرات ہند کے مقام پر لائے گئے انڈین جوڈیشل کوڈ کے تحت ان ڈرائیوروں کے لیے 10 سال تک کی سزا کا التزام ہے جو لاپرواہی سے گاڑی چلا کر سنگین سڑک حادثے کا باعث بنتے ہیں اور پولیس یا انتظامیہ کو بتائے بغیر فرار ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button