بین الاقوامی خبریںصحت اور سائنس کی دنیا

جسم پر ٹیٹو بنوانے کے لیے تکلیف دہ جگہ

سائنس اور بائیولوجی کی برطانوی استاد نتالیہ ویلشر کے بازو پر البرٹ آئن سٹائن کا ٹیٹو بنا ہوا ہے۔ ان کے پیروں، کلائیوں اور ٹخنوں پر دیگر ٹیٹو بھی بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے جتنے بھی ٹیٹو بنوائے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ تکلیف انھیں ٹخنوں اور پیروں پر بنواتے وقت ہوئی۔انھوں نے بی بی سی کی پوڈ کاسٹ Teach Me a Lesson یعنی ’مجھے ایک سبق سکھائیے‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تکلیف، جسم کا خود کو محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے اور جسم میں موجود اعصاب کا کام تکلیف کا پتا لگانا ہے۔

نتالیہ ویلشر کا اس بارے میں بات چیت میں کہنا تھا کہ ’جسم میں اس جگہ ٹیٹو بنوانا زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جہاں چربی کم اور اعصاب زیادہ ہوں۔‘

ویلشر کا کہنا ہے کہ پیروں اور ٹخنوں کے علاوہ پنڈلی کے اگلے حصے، بغلیں، کندھیں اور پسلیاں ٹیٹو بنوانے کے لیے تکلیف کے اعتبار سے حساس جگھیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ہر شحض کی انفرادی طور پر تکلیف برداشت کرنے پر منحصر ہے۔وہ اس تکلیف کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ٹیٹو بنوانے کے عمل کے دوران جسم کے اس حصے کے اعصاب پنکچر ہو جاتے ہیں اور وہ دماغ کو تکلیف کے سگنل بھیجتے ہیں۔‘

تاہم اس شحض کے ٹیٹو بنواتے وقت تکلیف کے ردعمل کا کسی دوسرے شخص کے ردعمل سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہر شخص میں تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت دوسرے سے مختلف ہے۔‘جلد جسم کا سب سے بڑا اعضا ہے، یہ جسم کے 50 فیصد وزن کے برابر ہے اور اس کی سب سے اوپری سطح ہر 28 دن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تو پھر ایسے میں ٹیٹو کی سیاہی جلد اترنے کے ساتھ ختم کیوں نہیں ہوتی؟

پروفیسر ویلشر یاد کرتی ہیں کہ جلد کی تین تہہ ہیں۔ جن میں سے اوپری سطح کو ایپی ڈرمس، درمیانی سطح کو ڈرمس اور جلد کی نچلی ترین سطح کو ہائیپوڈرمس کہتے ہیں۔ جلد کی درمیانی سطح پر خون کی شریانیں، اعصاب، پٹھے وغیرہ پائے جاتے ہیں جبکہ سب سے نچلی سطح پر جلد کی چکنائیت والی تہہ ہوتی ہے۔وہ اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ٹیٹو کی سیاہی جلد کی دوسری سطح یعنی ڈرمس میں کندھی جاتی ہے جہاں درد کا پیغام دینے کی ذمہ دار شریانیں اور اعصاب ہوتے ہیں۔

جسم سے ٹیٹو اس لیے ختم نہیں ہوتے کیونکہ جلد کی اوپری سطح ان کی حفاظت کرتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ جب ٹیٹو بنوانے کے لیے سیاہی جو جلد کی دوسری سطح ڈرمس میں کندھی جاتی ہے تو آپ کے جسم کو پیغام ملتا ہے کہ ’اس میں زخم ہو گیا ہے‘ تو جسم کا حفاظتی طریقہ کار اس کے لیے وہاں وائٹ بلڈ سیلز کو بھیجتا ہے جو سیاسی کو فوری نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کو خون کی روانی میں شامل کر دیتے ہیں۔تاہم وہ سیاہی جسم سے نکالنے کے لیے انسانی خلیوں کے لیے بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا وہ وہیں رہ جاتی ہیں۔ اس لیے ہم اسے جلد کی اوپری سطح کے باوجود دیکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button