پاکستان: غذائی عدم تحفظ کی صورتحال انتہائی تشویشناک
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاشی اور سیاسی بحران مزید بگڑتا ہے تو پاکستان میں آئندہ مہینوں میں غذائی عدم تحفظ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
نیویارک،30مئی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاشی اور سیاسی بحران مزید بگڑتا ہے تو پاکستان میں آئندہ مہینوں میں غذائی عدم تحفظ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے سیلاب نے صورت حال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے مشترکہ طور پر پیر کے روز شائع رپورٹ میں جون سے نومبر 2023ء کے درمیان کی مدت کے حوالے سے غذائی عدم تحفظ پر ابتدائی انتباہ جاری کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی سطح پر معاشی سست روی کے درمیان بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں نے پاکستان کے مالی بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کو اپریل 2023ء اور جون 2026ء کے درمیان 77.5 بلین ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کرنے ہوں گے، جو کہ سن 2021 میں 350 بلین ڈالر کی جی ڈی پی کے لحاظ سے کافی زیادہ رقم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور اصلاحات میں تاخیر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے رقم کے اجراء اور دو طرفہ شراکت داروں کی طرف سے اضافی امداد میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2023ء میں ہونے والے مجوزہ عام انتخابات سے قبل ملک کے شمال مغرب میں غذائی عدم تحفظ کی وجہ سے سیاسی بحران اور شہری بدامنی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی اور کرنسی کی قدر میں کمی ملک کی ضروری اشیائے خورونوش اور توانائی درآمد کرنے کی صلاحیت کو کم کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے سیلاب کے سبب یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے دیگر کے علاوہ زرعی شعبے کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق ستمبر اور دسمبر 2022ء کے درمیان 8.5 ملین سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔رپورٹ کے مطابق اس صورت حال میں ممکنہ بگاڑ سیلاب کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے بھی ہے۔سیلاب نے زرعی شعبے کو نقصان پہنچایا، کسانوں کے مال مویشی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے، اناج کی پیداوار اور روزگار کے مواقع کی دستیابی بھی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔اقوام متحدہ نے مشورہ دیا ہے کہ قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔



