بین الاقوامی خبریںسرورق

پاکستان :جوہری سائنس داں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کاسانحہ ارتحال،نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی

   زندگی کے اتار چڑھاؤ اور پرویز مشرف کے ساتھ تنازع

اسلام آباد ، 10اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی تدفین اتوار کو سرکاری اعزاز کے ساتھ اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد کے احاطے میں کی جائے گی۔ اتوار کو اسلام آباد کے کے آر ایل ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اتوار کی صبح طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس میں پاکستان کے ایٹمی سائنسدان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پورے اعزازات کے ساتھ تدفین کی جائے گی، تدفین سے متعلق جو فیصلہ ان کی فیملی کرے گی اس پر وزیراعظم کی مشاورت کے بعد عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے انتقال پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، فیصل مسجد میں عام افراد کو بھی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وزرا نماز جنازہ میں شرکت کریں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی پاکستان کے ایٹمی سائنسدان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔یکم ستمبر کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ایک ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی اور انہیں 26 اگست کو کے آر ایل منتقل کیا گیا۔

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور پرویز مشرف کے ساتھ تنازع

سال 1936 میں انڈیا کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا تعلق پشتون خاندان اورکزئی سے تھا۔ ان کے بہن بھائی 1947 میں ہی انڈیا سے پاکستان ہجرت کر چکے تھے ،تاہم ڈاکٹر اے کیو خان انڈیا میں 1951 سے اپنے والدین کے ہمراہ ہجرت کر کرکے پاکستان منتقل ہوئے۔

ابتدائی طور پر ڈاکٹر خان نے کراچی میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں ملازمت اختیار کی جس کے بعد وہ اسکالرشپ کے تحت اعلی تعلیم حاصل کرنے جرمنی اور پھر ہالینڈ سے مٹیریل ٹیکنالوجی میں ایم ایس اور بعدازاں انہوں نے بلجیم میں میٹلرارجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور سکیورٹی پالیسی کے حوالے سے کتاب لکھنے والے فیروز خان اپنی کتاب ’ایٹنگ گراس: دی میکنگ آف پاکستانی بم‘ میں لکھتے ہیں کہ 1972 میں جب انڈیا نے ایٹمی ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا ،تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کیں اور حکومت پاکستان کو خطوط ارسال کیے۔ انہوں نے 1974 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس حوالے سے دو خطوط ارسال کیے جس کے بعد انہیں وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد بلایا گیا۔

اس ملاقات کے بعد اے کیو خان دو سال تک ہالینڈ میں ہی رہے اور 1976 میں باضابطہ طور پر پاکستان ایٹمی بم کے منصوبے میں شامل ہوئے۔سال 1979 میں ہالینڈ کی حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جاسوسی کے الزامات کے حوالے سے مقدمہ بھی چلایا، جس میں ان پر عدم پیشی کی بنیاد پر قید کی سزا اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

بعدازاں عدالت نے ان کی اپیل پر سزا کے ثبوت کی عدم دستیابی کی بنا پر سزا واپس کر لی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان سوشل ویلفیئر کے کاموں کے لیے بھی جانے جاتے تھے اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور سوشل ورک کے کام میں پیش پیش ہوتے۔ وہ صحافیوں اور لکھاریوں سے میل ملاقاتوں سے کبھی نہیں کترائے۔ وہ مقامی صحافیوں سے ایسی باتیں بھی کر جاتے جو حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بھی بن جاتیں۔

یہی وجہ تھی کہ 1979 میں اس وقت کے صدر ضیا الحق پاکستان کے جوہری پروگرام کو خفیہ رکھنے کے خواہاں تھے اور ڈاکٹر  خان کی مقامی صحافیوں سے ملاقاتیں صدر ضیا کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ انڈیا کے نامور صحافی کلدیپ نیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا احوال لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’1979 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مقامی صحافیوں سے ملاقات میں یہ بیان دیا تھا کہ امریکہ کو علم ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام کتنا کامیاب ہے۔

ان کے اس بیان پر سابق صدر ضیا الحق نے انہیں ملاقات کے لیے بلایا اور سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے انہیں یہ بیان واپس لینے کی ہدایت کی، جس کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان نے چند صحافیوں سے رابطہ کر کے بیان پر وضاحت جاری کی۔

ڈاکٹر اے کیو خان کو 1989 میں ہلال امتیاز اور 1996 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ سال 1998 میں جوہری ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کے بعد 1999 میں ایک بار پھر نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مشیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عہدے پر فائض رہے ،تاہم امریکی صدر جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کی جانب سے 2003 میں ڈاکٹر اے کیو خان پر یورینیم دیگر ممالک کو فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

سابق صدر پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبد القدیر خان پر دباؤ ڈالتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن پر ان سے معذرت کروائی جس کے بعد ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کیا گیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے ان پر دباؤ ڈال کر اعترافی بیان دلوایا گیا ،اور انہیں اسٹیبلیشمنٹ کی طرف سے بلی کا بکرا بنایا گیا۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے اپنے گھر میں نظر بند ہو کر ہی زندگی گزاری جبکہ 2012 میں انہوں نے ایک سیاسی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی۔تاہم 2013 کے انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنی سیاسی جماعت تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ڈاکٹر خان نے زندگی کے آخری سال اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ہی گزارے اور گذشتہ چند سال سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ تھم چکا تھا۔

پاکستان کے جوہری توانائی کے’ جنم داتا‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سپردِ خاک 

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے بعد آج (10 اکتوبر کی)بہ رضائے الٰہی صبح 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔قبل ازیں ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کی امامت پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے کی ،جس میں قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے علاوہ سول و ملٹری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جنازے کے وقت اسلام آباد میں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا  جس کے باعث عوام کو جنازہ گاہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد اپنے ’قومی ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے فیصل مسجد پہنچی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسد خاکی کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا اور نماز جنازہ سے قبل انہیں پاک فوج کے دستے کی جانب سے سلامی بھی پیش کی گئی۔

اس موقع پر فیصل مسجد کے اطراف اور اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وفاقی دارالحکومت کے قریبی شہروں سے بھی عوام کی بڑی تعداد پہنچی ،جبکہ کچھ شہروں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔علاوہ ازیں بہاولپور میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی امامت میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نمازِ جنازہ ادا ہونے کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی نماز جنازہ میں آمد سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی، تاہم اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کچھ تاخیر کے بعد کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی تھی۔اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سمیت بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ معروف سائنسدان کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا جائے گا تاہم ان کے اہلِ خانہ کی خواہش پر اسلا م آباد کے سیکٹر ایف-8 میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کی گئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button