سرورققومی خبریں

پاکستانی مرتد خاتون سیما کی یوگی آدتیہ ناتھ سے التجا-ہندوستان میں رہنے دیں، پاکستان میں مجھے ’سنگسار‘ کردیا جائے گا

واضح رہے سیما کی پب جی پر سچن نامی شخص کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، پھر یہ ملاقات نادیدہ عشق میں بدل گیا

نئی دہلی، 10جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چار بچوں کی ماں پاکستانی خاتون سیما، جو نیپال کے راستے ہندوستان میں مبینہ طور پر اپنے سچن نامی ہندو عاشق سے شادی کیلئے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے الزام میں گرفتار ہوئی تھی،اس نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ہندوستان میں رہنے دینے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے سیما کی پب جی پر سچن نامی شخص کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی، پھر یہ ملاقات نادیدہ عشق میں بدل گیا، پھر سیما نامی پاکستان خاتون نے سرگرانیِ عشق میں آکر سرحدپار کر کے ہندوستان آ گئی۔ اس نے اب اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کی ہے کہ وہ اسے ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ مرتد سیما نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر وہ پاکستان واپس گئی تو پاکستا ن میں اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔سیما نے آج تک کے ساتھ انٹرویو میں یوگی آدتیہ ناتھ سے درخواست کی کہ براہ کرم مجھے (اپنے عاشق )سچن کے ساتھ ہندوستان میں رہنے دیں۔

اگر مجھے پاکستان واپس بھیجا گیا، تو وہاں مجھے سنگسار کر دیا جائے گا۔میں پاکستان واپس جانے کے بجائے یہیں مرنا پسند کروں گی۔ واضح رہے یہ اپیل انہوں نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد کی ہے۔4 جولائی کو سیما، اس کے عاشق سچن اور سچن کے والد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واضح رہے تینوں کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا تاہم انہیں ہفتے کے روز ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

واضح رہے دونوں نے 4 جولائی کو میڈیا اور پولیس کے سامنے ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انہیں شادی کرنے اور ہندوستان میں ایک ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے ۔2019 میں، سیما اور سچن کی ملاقات پب جی کے ذریعے ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ قریب تر ہوتے گئے۔ سیما نیپال کے راستے اس سال مارچ میں ہندوستان آگئی اور پھر مرتد ہوکر ہندومذہب اختیار کرلیا ۔ خیال رہے کہ مذہب اسلام میں ارتداد یعنی کفر اختیار کرنے کی سزا قتل ہے ، رجم یعنی سنگ ساری نہیں ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button