بیت المقدس قرآن کریم کی روشنی میں سر زمین فلسطین
✍️مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
سرزمین فلسطین نہایت مبارک اور محترم جگہ ہے۔ یہ سرزمین آسمانی پیغامات اور سالتوں کا منبع اور سرچشمہ رہی ہے۔ اس سرزمین پر اکثر انبیاء اور رسل آئے ہیں۔ یہی وہ سرزمین رہی ہے جہاں سے معراج کی ابتداء اور انتہاء ہوتی ہے۔ یہ آسمان کا دروازہ ہے یہ سرزمین محشر بھی ہے۔
سر زمین مبارک
اللہ عز وجل نے سرزمین فلسطین کو خیر وبرکت والی زمین فرمایا ہے: ابن جریر طبری فرماتے ہیں کہ یہاں دائمی اور ابدی طور پر خیر وبرکت قائم ودائم رہے گی۔ علامہ شوکانی نے برکت کے معنی یہاں کی زراعت اور پھل لئے ہیں۔ اسی کی پیداوار بہت زیادہ ہوگی۔ دیگر لوگوں نے برکت سے نہرین، پھل، انبیاء اور صلحاء مراد لیتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس سرزمین کے تعلق سے اللہ عز وجل نے یوں فرمایا ہے: ’’بَارَکْنَا حَوْلَہٗ‘‘ (سورہ اسراء 1) اس سے مراد ملک شام ہے۔ سریانی زبان میں ’’شام‘‘ کے معنی پاک اور سرسبز زمین کے آتے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ملک شام کو مبارک اس لئے کہا گیا کہ یہ انبیاء کا مستقر، ان کا قبلہ اور نزول ملائکہ اور وحی کامقام رہا ہے۔
یہیں لوگ روز محشر میں جمع کئے جائیں گے۔ حضرت حسنؓ اور حضرت قتادہؒ سے مروی ہے کہ اس مبارک سرزمین سے مراد ملک شام ہے، زید بن اسلم سے مروی ہے کہ اس سے مراد ملک شام گاؤں مراد ہیں۔ عبداللہ بن شوذب کہتے ہیں، اس سے مراد سرزمین فلسطین ہے۔ سرزمین فلسطین کو قرآن کریم میں 5 مواقع پربابرکت زمین سے خطاب کیا گیا ہے۔
مفہوم:
۱۔ پاک وہ ہے ذات جو اپنے بندوں کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ ہربات سننے والی، ہرچیز دیکھنے والی ذات ہے۔ (سورہ اسراء: ۱)
۲۔ اور جن لوگوں کو کمزور سمجھا جاتا تھا، ہم نے انہیں اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا وارث بنادیا جس پر ہم نے برکتیں نازل کی تھیں۔ (۱۶) اور نبی اسرائیل کے حق میں تمہارے رب کا کلمہ خیر پورا ہوا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا۔ اور فرعون اور اس کی قوم جو کچھ بناتی چڑھاتی رہی تھی، اس سب کو ہم نے ملیامیٹ کردیا۔ (سورہ اعراف: ۱۳۷)
۳۔ اور ہم نے نجات اسے اور لوط کی اس زمین کی طرف جو (کہ) ہم نے برکت رکھی اس میں تمام جہاں والوں کے لئے۔ (سورہ انبیاء: ۷۱)
۴۔ اور ہم نے تیز چلتی ہوائی ہواکو سلیمان کے تابع کردیا تھا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ اور ہمیں ہر ہربات کا پورا پورا علم ہے۔ (انبیاء: ۸۱)
۵۔ اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، ایسی بستیاں بسا رکھی تھیں جو دور سے نظر آتی تھیں، اور ان میں سفر کو کونپلے تلے مرحلوں میں بانٹ دیا تھا اور کہا تھا کہ ان (بستیوں) کے درمیان راتیں ہوں یادن، امن وامان کے ساتھ سفر کرو۔ (سورہ سبا: ۱۸)
مقدس سر زمین
ارض مقدس سے مراد ’’ارض مطہر‘‘ (پاک وصاف سرزمین) ہے۔ راغب کہتے ہیں، بیت المقدس یعنی یہ شرک وکفر کی نجاست سے پاک ہے۔ زجاج کہتے ہیں ارض مقدس سے مراد دمشق، فلسطین اور اردن کے بعض حصے کو کہتے ہیں۔ حضرت قتادہؓ سے مروی ہے اس سے ملک شام مراد ہے۔ ابن عساکر نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ارض مقدس عریش سے فرات تک کی سرزمین کو کہتے ہیں۔ سرزمین فلسطین کو ’’ارض مقدس‘‘ صرف قرآن مجید میں ایک جگہ پر کہا گیا ہے، اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے: اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجا جو اللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی ہے، اور اپنی پشت کے بل پیچھے نہ لوٹو، ورنہ پلٹ کر نامراد ہوجاؤگے۔ (سورہ مائدہ: ۲۱)
سر زمین محشر
اللہ عز وجل نے سرزمین فلسطین کو ’’ارض محشر‘‘ اور ’’سر زمین محشر‘‘ بھی فرمایا ہے۔ ارشاد باری عزوجل ہے۔ مفہوم: وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافر لوگوں کو ان کے گھروں سے پہلے اجتماع کے موقع پرنکال دیا۔ (سورہ حشر: ۲) یہاں ’’اول حشر‘‘ سے مراد یعنی ان یہودیوں کا ملک شام میں اکٹھا ہونا ہے جس وقت نبی کریم نے بنونضیر کو سرزمین مدینہ سے جلاوطن کردیا تھا۔ امام زہری سے مروی ہے کہتے ہیں اول حشر کے طور پر ان کی دنیا میں جلاوطنی سرزمین شام میں ہوئی تھی۔ ابن زید کہتے ہیں، اول حشر سے مراد سرزمین شام ہے۔ ابن عباس سے بکثرت روایات میں منقول ہے کہ فرماتے ہیں جس کو اس بات میں شک ہو کہ ارض محشر سے مراد سرزمین شام ہے وہ اس آیت کو پڑھے، پھر اس آیت کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ فرمایا۔
سرزمین فلسطین بغیر کسی صفات کے تذکرہ
اس طرح کئی مواقع سے قرآن کریم میں بغیر کسی صفت کے تذکرہ کے سرزمین فلسطین کا تذکرہ واقع ہوا ہے۔
۱۔ اور ہم نے فیصلہ سنادیا بنی اسرائیل کو کتاب میں (کہ) بلاشبہ ضرور تم فساد کرو گے زمین میں دو مرتبہ اور ضرور بالضرور تم چڑھائی کرو گے بہت بڑی چڑھائی۔ (سورہ اسراء: ۴)
شوکانی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہاں اس آیت میں سرزمین شام اور بیت المقدس مراد ہے۔
۲۔اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ (سورہ انبیاء: ۱۰۵)ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہاں ارض مقدسہ سے سرزمین شام اور فلسطین ہے۔ شوکانی نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔ مجید الدین حنبلی کا ایک قول یہ ہے یعنی اس سے مراد سرزمین مقدس (بیت المقدس) جس کے مسلمان امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم وارث ہوں گے۔
۳۔ اور ہم نے بنو اسرائیل کو ایسی جگہ بسایا جو صحیح معنی میں بسنے کے لائق جگہ تھی، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔ پھر انہوں نے (دین حق کے بارے میں) اس وقت تک اختلاف نہیں کیا جب تک ان کے پاس علم نہیں آگیا۔ یقین رکھو کہ جن باتوں میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، ان کا فیصلہ تمہارا پروردگار قیامت کے دن کرے گا۔ (سورہ یونس: ۹۳)یہاں سے ’’مبوا‘‘ سے منزل محمود مراد ہے یعنی ملک شام کاجنوبی علاقہ فلسطین اس سے مرادہے۔
قرآن میں فلسطین کے علاقوں کا تذکرہ
قرآن کریم نے بعض سرزمین فلسطین کے علاقوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ مفہوم:
۱۔ اور مریم کے بیٹے کو اور ان کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا، اور ان دونوں کو ایک ایسی بلندی پر پناہ دی جو ایک پرسکون جگہ تھی، اور جہاں صاف ستھرا پانی بہتا تھا۔ (سورہ مومنین: ۵۰) ابن جریر نے مرہ نہری سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں ’’الربوۃ‘‘ سے مراد ’’الرملۃ‘‘ ہے۔ ابن عساکر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس سے مراد ’’ربوۃ‘‘ فلسطین کا علاقہ مراد ہے۔قتادہ، کعب اور ابوالعالیہ فرماتے ہیں، اس سے مراد بیت المقدس ہے۔
۲۔د تو وہ حاملہ ہوگئی اس (ے) سے پھر وہ الگ ہوگئی اس کے ساتھ ایک دور جگہ (یعنی جنگل) میں۔ (مریم: ۲۲) مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ حضرت مریم حالت حمل میں دور چلی گئیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، وادی اقصیٰ تک گئیں اور یہی بیت اللحم ہے۔ اس کے اور ’’ایلیا‘‘ کے درمیان چارمیل کا فاصلہ ہے، اور ’’ایلیا، بیت المقدس‘‘ کا ہی ایک نام ہے۔
۳۔ اور توجہ سے سنئے جس دن پکارنے والا پکارے گا قریب جگہ سے۔ (سورہ ق: ۴۱) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ عز وجل کے اس قول کے بارے میں ارشاد ہے: ’’من مکان قریب‘‘ سے ’’صخرہ‘‘ بیت المقدس کا ہی ایک نام ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم کہتے تھے منادی صخرہ بیت المقدس سے آواز لگائے گا۔ اور کلبی اور کعب فرماتے ہیں یہ آسمان سے زمین کا قریبی حصہ ہے۔
۴۔اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا کہ اس بستی میں داخل ہوجا اور اس جہاں سے چاہو جی بھر کر کھا اور (بستی کے) دروازے میں جھکے سروں سے داخل ہونا اور یہ کہتے جانا کہ (یااللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں۔ (اس طرح) ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔ (سورہ بقرہ: ۵۸)
علماء کے مابین اس گاؤں کی تعیین میں اختلاف ہے۔ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ یہاں ’’قریہ‘‘ گاؤں سے مراد بیت المقدس ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یہاں باب دروازہ سے مراد بیت المقدس کا باب الحطہ مراد ہے۔
۵۔ یا (تم نے) اس جیسے شخص (کے واقعے) پر (غور کیا) جس کا ایک بستی پر ایسے وقت گزرا ہوا جب وہ چھتوں کے بل گری پڑی تھی؟ (سورہ بقرہ: ۲۵۹) قرطبی نے ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد وہب بن منبہ اور قتادہ وغیرہ کے قول کے مطابق بیت المقدس ہے۔ جس وقت اللہ عز وجل نے بخت نصر کے ذریعہ بیت المقدس سے ان کا تخلیہ کرایا تھا، یہ عراق کا والی تھا۔ شوکانی اور جمہور بھی اسی بات کے قائل ہیں۔ چنانچہ جب طالوت لشکر کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے (لشکر والوں سے) کہا کہ: اللہ ایک دریا کے ذریعے تمہارا امتحان لینے والا ہے) (سورہ بقرہ: ۲۴۹) قتادہ نے ذکر کیا ہے کہ یہاں نہر سے مراد اردن اور فلسطین کے درمیان کی نہر ہے۔ شوکانی نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ نہر اردن ہے۔ ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نہر فلسطین ہے۔
۷۔ یہاں تک کہ جب وہ آئے، چیونٹیوں کی وادی پر کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو تم داخل ہوجاؤ اپنے گھروں (بلوں) میں کہیں ہرگز کچل نہ دیں تمہیں سلیمان اور اس کا لشکر اس حال میں کہ وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔ (سورہ نمل: ۱۸)
امام رازی کہتے ہیں اس ’’وادی النمل‘‘ سے مراد ’’وادی شام‘‘ ہے جہاں چیونٹیوں کی کثرت ہوتی ہے یہ وادی عسقلانی کے پڑوس میں واقع ہے۔ یہ سرزمین جس کے تقدس اور تبرک کا تذکرہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے، جس کے مسلمانوں کے بطور وارث ہونے کا تذکرہ قرآن مجید نے کیا ہے، یہ سرزمین مسلمانوں کے یہاں نہایت متبرک اور مقدس گردانی جاتی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ اس مقدس اور پاک سرزمین پر ناپاک یہودی اپنے قدم جمانے اور اس کو اپنے ملک اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے ناپاک عزائم بناچکے ہیں اور منصوبہ پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ساری دنیا میں اس کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ جلسے جلوس ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کو اس کے تقدس کو سمجھنا اور اس بیت المقدس کی بازیابی کے لیبیا اور اس کی پاک سرزمین پر ناپاک قدم پڑنے سے روکنے کے لئے ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔



