پولیس نے 255 بغیر ماسک کے گھومنے پھرنے والے افراد کے خلاف تعزیری کارروائی کی-
پربھنی :- (سید یوسف) پربھنی شہر میں 255 بغیر ماسک کے گھومنے پھرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین تھانوں کے افسران اور عملہ نے مذکورہ کاروائی کی ہے – دو دن میں 273 افراد سے 54،600 روپے جرمانے وصول کیے گئے ۔
کورونا وائرس کے فروغ کے روک تھام کے لئے پربھنی پولیس انتظامیہ نے ان اقدامات پر بھی سخت سے کارروائی شروع کردی ہے – جو احکامات پر عمل درآمد نہیں کرتے ہیں۔ جمعہ (5 دسمبر) کو ، ماسک کے بغیر سفر کرنے والے 273 افراد کو جرمانے اور 54،600 روپے کی وصولی کی گئی ہے ۔ پولیس کی اس کارروائی نے پربھنی شہر میں ہلچل مچا دی ہے ۔
ضلع پولیس ایس پی جینت مینا اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس سدرشن ممکا نے شہر کے تینوں تھانوں کے افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ شہر کو جانے والی اہم سڑکوں پر چوکیاں قائم کریں اور بغیر ماسک کے گاڑیوں پر گھومنے پھرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔
اسی طرح نیا مونڈھا پولیس نے بسمت روڈ پر کھانہ پور پھاٹا میں ایک پوائنٹ قائم کیا ہے – جہاں نیا مونڈھا پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر رامشور تت کی رہنمائی میں پولیس افسران اور عملہ کو تعینات کیا گیا ہے۔ انسپکٹر رمیشور تٹ نے بتایا کہ جمعرات (4 جنوری) کو نیامونڈھا پولیس نے بغیر کسی ماسک کے 65 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے ۔
نانل پیٹھ پولیس اسٹیشن کے پولیس انسپکٹر کندن کمار واگھمارے جنتور روڈ پر وساوا پھاٹہ سے آنے اور جانے والے بغیر ماسک کے گھومنے پھرنے والے کو خلاف کارروائی کی جا رہی ہے – جمعرات کے روز 42 افراد اور جمعہ (5 دسمبر) کو 62 افراد کے بغیر کسی ماسک کے نکلنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے –
اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولیس کوتوالی پولیس اسٹیشن ، ویویک پاٹل کی رہنمائی میں ، گنگا کھیڑ روڈ پر ایس ٹی ورکشاپ کے سامنے ایک مقام پر ایک پوائنٹ قائم کی گئی ہے اور بغیر ماسک کے سفر کرنے والے موٹرسائیکلوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ جمعرات (4 دسمبر) کو 37 افراد اور جمعہ (5 دسمبر) کو 27 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے – اس طرح کی اطلاع پولیس انسپکٹر اسسٹنٹ انسپکٹر ویوک پاٹل نے دی ہے ۔
مذہبی عبادت گاہوں کے کھولنے کی تاریخ میں توسیع اب مذہبی عبادت خانے 15 مارچ تک بند رہیں گے –
پربھنی (سید یوسف) پربھنی ضلع کلکٹر دیپک مگڑیکر نے جمعہ (5 مارچ) کو کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ضلع کے تمام مذہبی مقامات کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔
پربھنی ضلع میں کورونا انفیکشن کی تعداد بڑھ رہی ہے – جس کے سبب احتیاطی تدابیر کے طور پر احتیاط برتنے کے پیش مزید تاریخ میں اضافہ کر دیا گیا ہے – ضلع میں دوبارہ کورونا انفیکشن میں اضافہ نہیں ہوگا۔ پربھنی ضلع میں کورونا انفیکشن میں حالیہ دنوں میں اضافے کے پیش نظر عام لوگوں کی صحت کے حوالے سے کچھ معاملات میں پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہجوم کے پیش نظر ضلع کے تمام مذہبی مقامات کو کچھ وقت کے لئے بند کردیا جائے۔ قبل ازیں مذکورہ بندش کا حکم 7 مارچ تک دیا گیا تھا۔ تاہم اس میں اضافہ کرتے ہوئے مذہبی مقامات کو 15 مارچ تک بند رکھنے کے احکامات پربھنی ضلع کلکٹر دیپک مگڑیکر نے جمعہ کے روز دیے ہیں – ملحوظ رہے کہ پربھنی ضلع کے مذہبی عبادت گاہوں میں صرف پانچ افراد کو مذہبی مقامات پر روزانہ اپنے مذہبی فریضہ انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے –
ضلع میں 47 افراد کورونا وائرس سے متاثر –
پربھنی (سید یوسف) پربھنی شہر و ضلع کے نو تعلقہ جات جن میں پربھنی، پالم، پورنا،گنگاکھیڑ ،سونپیٹھ ،پاتھری ،مانوت ،سیلو اور جنتور میں کورونا وائرس کوویڈ – 19 کے پازیٹو مریضوں کی کل کے مقابلے میں آج پازیٹو مریضوں کی تعداد میں اضافہ پایا گیا – آج جمعہ کے روز 47 پازیٹو مریض پربھنی میں پائے گئے ہیں – پربھنی ضلع میں کورونا وائرس کے پازیٹو مریضوں کی جملہ آٹھ ہزار سات سو چھپن ہو چکی ہے – جن میں سے اب تک آٹھ ہزار تین سو اٹھائیس مریضوں کی صحت یابی پر ان کی رخصتی ہو چکی ہیں – جبکہ اب تک پازیٹو مرض لاحق ہونے سے 330 مریض فوت ہو چکے ہیں – اسی طرح پربھنی ضلع میں 98 مریض ابھی بھی زیر علاج ہیں – جن میں سے آج 45 افرد کو ان کی صحت یابی پر ان کی گھرواپسی کر دی گئی ہے -اسی طرح آج دو پازیٹو مریض کا انتقال ہو چکا ہے –
ونچیت بہوجن آگھاڑی کی جانب سے کسانوں کی حمایت میں اندولن
پربھنی (سید یوسف) ملک میں کسانوں کے خلاف لاک ڈاؤن کے دوران تین کالے قانون کے متعلق قرارداد منظور کیے گئے ہیں – جس کے خلاف ملک بھر میں کسانوں میں حکومت کے تئیں سخت غصہ اور ناراضگی پائ جاتی ہے –
اس متعلق ونچیت بہوجن آگھاڑی کے قومی صدر بالاصاحب امبیڈکر کے ایماء پر ریاست مہاراشٹر میں مرکزی حکومت کی جانب سے کسانوں کے خلاف منظور کیے گئے کالے قانون کو منسوخ کرنے کے لیے دھرنا اندولن کا انعقاد عمل میں آیا – مذکورہ کسانوں کے خلاف منظور کیے گئے کالے قانون کے سبب ملک کا کسان مشکلات میں پڑھ گیا ہے – جس کے سبب دہلی میں جاری کسان اندولن کی حمایت میں پربھنی میں دھرنا اندولن کا انعقاد عمل میں آیا – اس متعلق دھرنا اندولن میں کہا گیا ہے کہ جب تک کسانوں کا مسئلہ حل نہیں کیے جاتے ہیں – تب تک ونچیت بہوجن آگھاڑی کی جانب سے کسانوں کی حمایت جاری رہیگی –
اس معاملہ میں دیے گئے محضر پر عالمگیر خان، پربھنی ضلع صدر ،بھگوان دیورے، کلیم خان، سمیت جادھو، کھندارے سر، سردار چندا سنگھ، سنجے بھراڑے، سنیل باورے ودیگر کے دستخطیں ثبت ہیں –
ناندیڑ ڈویژن سے گزرنے والی دو ٹرینوں کی منسوخی اور ایک ٹرین کا روٹ تبدیل کیا گیا –
پربھنی (سید یوسف) گونٹکل ڈویژن ، جنوبی وسطی ریلوے میں تروپتی ریلوے اسٹیشن کے جنوب کی سمت میں یارڈ کو دوبارہ سے بنانے ، سگنلنگ ارینجمینجٹ کے انتظامات کے پیش نظر اور بجلی کے کام کرنے کے لئے نان انٹر لاک واکنگ کام کیا جا رہا ہے ۔ جس سے متعدد ٹرینیں متاثر ہو رہی ہیں۔ جن میں سے ناندیڑ ریلوے ڈویژن میں کچھ ٹرینیں منسوخ کردی گئیں ہیں –
جبکہ ایک ٹرین کو موڑ دیا گیا ہے۔ جو مندرجہ ذیل ٹرینیں منسوخ کی گئی ہے – ٹرین نمبر 02765 تروپتی – امراوتی دو ہفتہ ایکسپریس 6 مارچ اور 9 مارچ کو مکمل طور پر منسوخ کردی گئی ہے۔ اسی طرح ٹرین نمبر 02766 امراوتی تا تروپتی دو ہفتہ ایکسپریس 8 اور 11 مارچ کو مکمل طور پر منسوخ کردی گئی ہے۔ ان ٹرینوں کے روٹ تبدیل ہوے ہیں –
ٹرین نمبر 06733 رامیشورم سے اوکھا ہفتہ وار ایکسپریس 5،مارچ سے اپنے باقاعدہ راستے کاٹ پاڑی – تروپتی-رینی گنٹھا کے روٹ سے نہ چلتے ہوئے کاٹ پاڑی – میل پاکم – رینی گنٹھا اس روٹ سے چلیگی ۔ یعنی یہ باقاعدہ طریقے سے میل پاکم- رینی گنٹھا سے آگے اوکھا تک مقررہ روٹ پر سے ہی چلے گی
جمعیت علماء ضلع پربھنی کا انتخاب

مولانا صادق ندوی ضلع صدر جبکہ سید اسحاق باغبان ضلع سیکرٹری منتخب
(سید یوسف) جمعیت علماء ضلع پربھنی کی میعاد تکمیل ہونے پر ممبر سازی کی گئی اور اب 3 فروری 2021 کو دارالعلوم فرقانیہ سیلو میں صدر جمعیت علماء مرہٹواڑہ مولانا حبیب الرحمن قاسمی کی صدارت میں انتخابی نشست منعقد ہویٔ – جسمیں صدر جمعیت علماء مہاراشٹر مولانا ندیم احمد صدیقی اور قاری شمس الحق قاسمی بطور مہمان خصوصی شریک تھے –
اس موقع پر نشست کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا ندیم احمد صدیقی نے کہا کہ ہمارے اسلاف جماعت سے آخری سانس تک منسلک رہتے اور بے لوث خدمات انجام دیتے اسی لیے اس جماعت کو ساری دنیا میں مقبولیت حاصل ہے – دور جدید میں مسلمانوں کا تشخص جمعیت علماء دعوت وتبلیغ اور مدارس کی بقاء پر منحصر ہے انتخابی مرحلہ کا آغاز ہوا –
جبکہ ضلع بھر سے آئے مندوبین کی متفقہ رائے سے مولانا صادق ندوی ناظم دارالعلوم فرقانیہ سیلو کو ضلع پربھنی صدر منتخب کیا گیا- نائب صدور میں شاکر احمد اعتماد الدین صدیقی، قاری مہذب الدین صدیقی پربھنی جبکہ جنرل سیکریٹری حاجی سید اسحاق باغبان منتخب ہوئے
سیکریٹری کے طور پر مولانا سراج الدین ندوی، جنتور مفتی شکیل احمد پربھنی خازن محمد رضوان سر مانوت کا انتخاب عمل میں آیا دیگر عہدیداران میں سید سمیع عرف ماجو لالہ پربھنی، ایم اے ماجد جنتور، ڈاکٹر شعیب، مولانا رفیق ندوی پاتھری مولانا تجمل احمد خان ملی ،مولانا قمر الدین ندوی حافظ عبد الخالق گنگا کھیڑ حافظ مدثر، پالم، شیخ ہاشم کنٹریکٹر، مولانا سلیم ملی، مانوت حافظ عبد القدیر سونپیٹھ، مولانا سید عثمان پاشا پورنا کا انتخاب عمل میں آیا – تمہیدی کلمات مولانا عبد الجلیل تابش ملی نے ادا کیے –
جبکہ مولانا حبیب الرحمن قاسمی نے انتخابی لائحہ عمل اور دستور پر روشنی ڈالی مولانا تجمل احمد خان قاسمی سیلو کو سرپرست اعلیٰ مقرر کیا گیا-مولانا ندیم احمد صدیقی بطور مبصر ومشاہد بھی شریک رہے مولانا صادق ندوی کے شکریہ پر محفل کا اختتام عمل میں آیا – اس موقع پر پربھنی شہر و ضلع بھر سے جمعیت کے ارکان عہدیداران کے علاوہ ذمہ داران موجود تھے





