
نئی دہلی، 30جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #کورونا #وباکے ساتھ اس سے متعلق گمراہ کن خبریں معاشرے میں بھی بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہیں۔ اب اس کا جواب #مرکزی #حکومت نے دیا ہے۔ نیتی آیوگ کے ممبر ڈاکٹر وی کے پال نے بچوں میں #کورونا سے متعلق بہت سے غلط تصورات کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے علاج معالجے کے لئے مناسب انفراسٹرکچر کا انتظام کیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عام طور پر #بچوں میں کرونا کے اثرات کم واقع ہوتے ہیں ، اور انتہائی نادر مواقع پر ہی #اسپتال میں داخل کئے جانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔دوسری جانب #ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے آگاہ کیا ہے کہ ملک اور دنیا بھر میں ایسے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ، جس کے بنیاد پر کہا جاسکے کہ آنے والی لہروں میں #بچوں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسری لہر کے دوران #بچے کرونا کے بعد عام بیماریوں کے جیسے ٹھیک ہوگئے۔ جن کو #اسپتال میں داخل ہونا پڑا ، ان بچوں کو پہلے سے ہی کوئی بیماری ہوچکی ہوگی یا قوت مدافعت کی سطح کم ہوگی۔کوڈ ورکنگ گروپ کے چیئرپرسن ڈاکٹر این کے چوپڑا نے بتایا کہ بچوں میں کوویکسن کا ٹرائل 25 جون سے شروع کیا گیا ہے۔
یہ ٹرائل 2 سے 18 سال کی عمر کے بچوں پر کئے جا رہے ہیں، اس کے نتائج ستمبر تا اکتوبر تک آسکتے ہیں۔واضح ہو کہ وزارت صحت اور ملک کے بڑے ماہرین نے یہ کہا ہے کہ کرونا کی آئندہ لہروں کے لئے کرونا کو مناسب طرز عمل اپنانا ہوگا۔
ماسک ، سینی ٹائزر اور معاشرتی دوری جیسے اصول اب بھی مؤثر ہیں۔ ملک میں ڈیلٹا پلس ویری ینٹ کے بڑھتے کیسز کے درمیان تیسری لہر کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم جون کے مہینے میں ویکسی نیشن کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے کرونا کی تیسری لہر کو روکنے میں مدد ملے گی۔



