سرورق

آج سے پارلیمنٹ سیشن کا آغاز، کل ہواآل پارٹیزاجلاس

آل پارٹی میٹنگ میں کانگریس نے اڈانی گروپ کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات پر بحث کا مطالبہ کیا

نئی دہلی،24 نومبر (ایجنسیز) پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہونے والا ہے، اس سے پہلے مرکزی حکومت نے اتوار کو آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ میں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ آل پارٹی میٹنگ میں کانگریس نے اڈانی گروپ کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات پر بحث کا مطالبہ کیا۔اس سے صاف ہے کہ اپوزیشن اس مسئلہ کو سرمائی اجلاس میں بھی اٹھائے گی، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کا اجلاس کافی شور شرابا ہونے کا امکان ہے، لیکن مہاراشٹرا انتخابات میں جیت کے بعد حکمراں بی جے پی کو کچھ اعتماد ضرور ملا ہوگا۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آل پارٹی میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔ اس میٹنگ میں کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، شیو سینا، بی جے ڈی اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔سرمائی اجلاس پیر یعنی 25 نومبر سے شروع ہوگا اور 20 دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس اجلاس کے دوران اپوزیشن وقف ترمیمی بل، منی پور تشدد کے معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن صنعت کار گوتم اڈانی پر امریکہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو لے کر بھی مرکز پر حملہ کر رہی ہے۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے گوتم اڈانی کیس کی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے میٹنگ کے بعد کہا کہ ان کی پارٹی نے حکومت پر زور دیا کہ سیشن میں اڈانی رشوت اسکینڈل پر بحث کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ یہ مسئلہ پیر کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں سب سے پہلے اٹھایا جائے۔راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس میں ملک کے اقتصادی اور سلامتی کے مفادات شامل ہیں کیونکہ کمپنی نے مبینہ طور پر اپنے شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے سازگار سودا حاصل کرنے کے لیے سیاستدانوں اور نوکرشاہوں کو 2,300 کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی ہے۔

وقف ترمیمی بل پر بحث کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی امکان ہے کہ سرمائی اجلاس کے ابتدائی ہفتے کے آخر میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ تاہم جے پی سی میں شامل اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگ رہے ہیں۔ اجلاس میں دستور ساز اسمبلی کے سنٹرل ہال میں 26 نومبر کو آئین کی منظوری کی 75 ویں سالگرہ کے پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔حکومت نے وقف ترمیمی بل سمیت 16 بلوں کو اجلاس میں غور کے لیے درج کیا ہے۔

سرمائی اجلاس کے دوران حکومت پنجاب کورٹس ترمیمی بل، مرچنٹ شپنگ بل، کوسٹل شپنگ بل اور انڈین پورٹس بل پیش کر سکتی ہے۔ ان کے علاوہ انڈین ایئر کرافٹ بل، جسے لوک سبھا نے پاس کیا ہے، راجیہ سبھا میں زیر التوا ہے۔ لوک سبھا بلیٹن کے مطابق لوک سبھا میں آٹھ بل زیر التوا ہیں جن میں وقف ترمیمی بل اور مسلم وقف بل شامل ہیں۔راجیہ سبھا میں بھی دو بل زیر التوا ہیں۔ پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں ون نیشن ون الیکشن بل پیش کرنے کی امید کم ہے۔

میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ میٹنگ میں 30 سیاسی جماعتوں کے کل 42 لیڈر موجود تھے۔ سبھی نے کچھ موضوعات پر بحث کے لیے کہا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اچھی بحث ہو۔حکومت کسی بھی موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے۔ ہماری درخواست صرف یہ ہے کہ ایوان کا کام خوش اسلوبی سے چلے اور کوئی ہنگامہ نہ ہو۔ سرمائی اجلاس کو اچھے طریقے سے چلانے کے لیے سب کا تعاون درکار ہے اور سب کی شرکت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button