قومی خبریں

تاخیرسے پہنچی ٹرین،چھوٹی فلائٹ  سپریم کورٹ نے ریلوے سے کہا’ معاوضہ تودینا پڑے گا‘

نئی دہلی،10اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حکومتوں اور حکومتی مشینری کی ایسی حرکتیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ہم 21 ویں صدی کے جمہوری ہندوستان میں رہ رہے ہیں یا ہم صرف #آزادی کے مغالطے میں رہ رہے ہیں۔ حکومت کا ایک ایساہی محکمہ ریلوے ہے، ہر فرد کی زندگی سے متعلقہ یہ شعبہ اپنے کارناموں کے لیے اتنا بدنام ہے کہ شاید ہر شخص نے اپنی زندگی کے کسی موڑ پر اس پر لعنت بھیجی ہو۔
#ٹرینوں کی تاخیر کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو مختلف قسم کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ایک معاملے میں #سپریم کورٹ نے ریلوے کو حکم دیا کہ وہ معاوضہ دے کر مسافر کے نقصان کی تلافی کرے۔دراصل دو مسافروں نے دہلی آنے کے لیے #پریاگ راج #ایکسپریس کے ٹکٹ لیا۔ ٹرین کی تاخیر کی وجہ سے دونوں مسافر تقریبا 5 گھنٹے کی تاخیر سے دہلی پہنچے ۔
اس کی وجہ سے وہ #کوچی جانے والی اپنی #پرواز سے محروم ہو گئے۔ مسافر نے صارفین فورم میں ریلوے کے خلاف شکایت کی اور فورم نے #ریلوے پر #جرمانہ عائد کیا۔ پھر ریلوے نے ’چوری بھی،سینہ زوری بھی‘ کے راستے پر چلتے ہوئے معاملہ کو سپریم کورٹ میں گھسیٹا۔ سپریم کورٹ نے #مسافروں کے حق میں فیصلہ دے کر ریلوے پر #طنز بھی کیا۔
سپریم کورٹ میں اس معاملے پر سماعت ہوئی۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رویندرا بھٹ کی بنچ نے مرکزی حکومت کی درخواست پر قومی صارفین تنازعات ازالہ کمیشن (National Consumer Dispute Redressal Commission) کے حکم کو نہیں روکا۔ عدالت نے وزارت ریلوے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ #ہندوستانی #ریلوے دیرپا تاخیر کا اندازہ لگا سکتا ہے اور مسافروں کو اس کے بارے میں آگاہ کر سکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے این سی ڈی آر سی کے حکم سے اتفاق کرتے ہوئے ریلوے کی جانب سے غفلت اور خدمت میں کوتاہی مانتے ہوئے 40 ہزار روپے معاوضہ کیلئے ڈسٹرکٹ کنزیو مر فورم کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار (مرکزی حکومت) چار ہفتے میں 25 ہزار روپے کی رقم عدالت رجسٹری میں جمع کرائے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button