بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

اسپتال کے آئی سی یو میں مافیا اسٹائل قتل، سڑک پر جشن مناتے قاتلوں کی نئی ویڈیو منظر عام پر

قاتلوں کا جشن مناتا ہتھیار لہرانا سوشل میڈیا پر وائرل

پٹنہ، 18 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)پٹنہ کے مشہور پارس اسپتال میں مافیا اسٹائل میں قتل کیے جانے کے اگلے ہی دن، ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں مبینہ قاتل سڑک پر ہتھیار لہراتے ہوئے جشن مناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو میں دو بائیکس پر سوار چھ افراد کو دکھایا گیا ہے، جن میں سے ایک درمیان میں بیٹھا شخص ہاتھ میں بندوق لیے خوشی سے ہاتھ اٹھاتا ہے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور بہار میں قانون و نظم پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہی ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آتے ہی ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

آئی سی یو میں خونریز حملہ:

یہ واقعہ جمعرات کی صبح اُس وقت پیش آیا جب 36 سالہ چندن مشرا، جو بیور جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا، طبی بنیادوں پر پیرول پر تھا اور پٹنہ کے پارس اسپتال میں علاج کروا رہا تھا۔ پانچ حملہ آور بلا خوف و خطر اسپتال میں داخل ہوئے، آئی سی یو میں گئے اور چندن پر اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔

اسپتال کے سی سی ٹی وی میں صاف دکھایا گیا کہ قاتل نہایت اطمینان سے آئے اور بغیر کسی مزاحمت کے واپس چلے گئے۔

پولیس کا بیان:

بہار کے ڈی جی پی ونئے کمار نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ:

"یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسے اسپتال میں ہوا ہے جہاں سیکیورٹی کا نظام موجود ہے، لیکن مجرموں نے تمام حدیں پار کر دیں۔”

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گینگ وار کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ پٹنہ ایس ایس پی کارتکیہ شرما کے مطابق، چندن مشرا بکسّر کا رہائشی تھا اور اس پر پہلے سے قتل کے الزامات تھے۔
انہوں نے بتایا کہ "ہم چندن شیرو گینگ کے ممبران کی شناخت کر رہے ہیں۔”

سیاسی ردعمل:

اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر سخت حملے شروع کر دیے ہیں۔ کانگریس نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:

"بہار میں غنڈہ راج… ویڈیو دیکھ کر سمجھیں مجرم کتنے بے خوف ہیں۔”

آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے سوال اٹھایا:

"کیا بہار میں کوئی محفوظ ہے؟ کیا 2005 سے پہلے ایسے واقعات ہوتے تھے؟”
انہوں نے نائب وزرائے اعلیٰ سمرات چودھری اور وجے سنہا پر طنز کیا کہ وہ مجرموں کو ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں لیکن مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔

آزاد رکن پارلیمنٹ پپّو یادو کو اسپتال میں داخلے سے روک دیا گیا، جس پر انہوں نے واقعے کو ذات پات سے جوڑتے ہوئے صدر راج کی مانگ کر دی۔
انہوں نے کہا:

"نرسیں، ڈاکٹرز، کوئی بھی محفوظ نہیں۔ بہار میں انتظامیہ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔”

اب تک کی کارروائی:

پولیس نے پٹنہ اور بکسّر سے چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے، اور پورے واقعے کی گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔ اسپتال کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button