پٹنہ: (اردو دنیا نیوز) بہار کی دارالحکومت پٹنہ میں ایک معصوم بچی سے عصمت دری کے جرم میں اسکول کے پرنسپل کو سزائے موت اور ایک ٹیچر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ سنسنی خیز معاملہ پھلواری شریف کے ایک اسکول کا ہے جہاں 11 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔
سزا یافتہ پرنسپل کا نام اروند کمار بتایا گیا ہے، جو اسکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ دوسرا مجرم اسکول میں بطور ٹیچر کام کرتا تھا۔ دونوں کو عدالت نے شواہد کی بنیاد پر قصوروار پایا۔
یہ افسوسناک واقعہ ستمبر 2018 میں پیش آیا۔ 11 سالہ لڑکی اسکول میں پڑھتی تھی، جہاں اس کے ساتھ پرنسپل اور ٹیچر نے بارہا جنسی زیادتی کی۔ کچھ عرصہ بعد جب بچی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی تو اسے اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ وہ حاملہ ہے۔ یہ سن کر والدین اور ڈاکٹروں کے ہوش اڑ گئے۔
اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے شواہد اکٹھے کیے جن سے ثابت ہوا کہ بچی کے ساتھ زیادتی اسکول میں ہی کی گئی تھی۔ واقعے کے منظرنامے اور ثبوتوں نے ملزموں کے جرم کو بے نقاب کردیا۔
پولیس نے مکمل جانچ کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ کیس کی سماعت طویل عرصے تک جاری رہی۔ عدالت میں استغاثہ نے ٹھوس شواہد اور میڈیکل رپورٹس پیش کیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ پٹنہ نے شواہد اور گواہیوں کی بنیاد پر پرنسپل اروند کمار کو سزائے موت اور شریک جرم ٹیچر کو عمر قید کی سزا سنائی۔
عدالتی فیصلے کے بعد پورے علاقے میں اطمینان اور سکون کا ماحول پیدا ہوا۔ مقامی شہریوں نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مجرموں کو سخت سزا ہی معاشرے میں انصاف اور خوف پیدا کر سکتی ہے۔
یہ فیصلہ بہار میں بڑھتے جنسی جرائم کے خلاف ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



