سیاسی و مذہبی مضامین

تختِ مور: شاہ جہاں کی عظمت، مغلیہ شان اور زوال کی داستان

مور کا تخت مغلیہ سلطنت کی شان بھی، زوال کی علامت بھی

مغل شہنشاہ شاہ جہاں فنونِ لطیفہ کا عظیم قدردان اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ اس کے عہد میں تعمیر ہونے والی عمارتیں آج بھی دنیا کی خوبصورت ترین یادگاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ تاج محل، جامع مسجد دہلی اور لال قلعہ جیسے عظیم شاہکار اسی ذوقِ جمال اور فن پرستی کا ثبوت ہیں۔ شاہ جہاں کا دورِ حکومت برصغیر کی تاریخ میں ایک سنہرا دور سمجھا جاتا ہے، جب سلطنت میں خوشحالی تھی، تجارت کو فروغ حاصل تھا، فنون اور دستکاری اپنے عروج پر تھیں اور شہری نظم و نسق نسبتاً بہتر انداز میں چلایا جاتا تھا۔ اسی زمانے میں اس نے ایک نئے دارالحکومت، شاہجہان آباد، کی بنیاد رکھی جو بعد میں مغلیہ عظمت کی علامت بنا۔

اس تمام شان و شوکت، خوشحالی اور اقتدار کے باوجود شاہ جہاں کو محسوس ہوتا تھا کہ اس کی سلطنت کی عظمت کے اظہار کے لیے ابھی کچھ کمی باقی ہے۔ یہی احساس ایک ایسے شاہکار کی تخلیق کا محرک بنا جو عام شاہی آسائش سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اس کے محل کی بے شمار آسائشوں میں سب سے نمایاں، منفرد اور تاریخ ساز شے تختِ مور تھا۔

بادشاہ اور اس کی شان و شوکت کو ہمیشہ لازم و ملزوم سمجھا گیا ہے، مگر تختِ مور محض ایک شاہی نشست نہیں تھا۔ یہ اقتدار، دولت، فن اور طاقت کا ایسا مظہر تھا جس کی مثال دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسا تخت تھا جس نے نہ صرف اپنے خالق کی زندگی دیکھی بلکہ اس کے بعد بھی تاریخ کے نشیب و فراز میں ایک طویل اور غیر معمولی سفر طے کیا۔

شاہ جہاں کے حکم پر 1628ء میں ماہر سناروں اور کاریگروں کو تختِ مور کی تیاری کا کام سونپا گیا۔ اس عظیم شاہکار کو مکمل ہونے میں سات برس لگے۔ مؤرخین کے مطابق اس کی تیاری پر تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو اس دور میں ایک ناقابلِ تصور رقم تھی اور کہا جاتا ہے کہ یہ تاج محل کی تعمیراتی لاگت سے بھی دگنی تھی۔ تخت کی تیاری میں تقریباً 1150 کلوگرام خالص سونا اور 230 کلوگرام قیمتی جواہرات استعمال کیے گئے تھے۔ اس میں دنیا کے نایاب ترین جواہرات، جن میں کوہِ نور ہیرا اور قیمتی یاقوت شامل تھے، جڑے ہوئے تھے۔

تخت کی ساخت اور نقش و نگار انتہائی نفیس تھے۔ اس پر مور کی شکل میں جواہرات جڑے ہوئے تھے، جن کے پھیلے ہوئے پروں سے رنگ برنگے قیمتی پتھر جگمگاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اسے تختِ مور کہا جاتا تھا۔ یہ تخت دہلی کے لال قلعہ میں رکھا گیا، جہاں یہ طویل عرصے تک مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت، دولت اور اقتدار کی علامت بنا رہا۔

تاہم تاریخ نے ایک عجیب کروٹ لی۔ 1739ء میں ایران کے حکمراں نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا۔ کرنال کی لڑائی میں اس نے مغل شہنشاہ محمد شاہ کو شکست دی اور دہلی پر قبضہ کر لیا۔ اس حملے کو مؤرخین مغلیہ سلطنت کے زوال کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔ دہلی پر قبضے کے بعد شہر کو بے دردی سے لوٹا گیا اور اندازہ ہے کہ اس دوران تقریباً 70 کروڑ روپے کی دولت نادر شاہ کے ہاتھ لگی۔

اس لوٹی گئی دولت میں تختِ مور اور کوہِ نور ہیرا بھی شامل تھے۔ نادر شاہ نے جواہرات اور یاقوت سے مزین تختِ مور کو ہاتھیوں اور اونٹوں پر لاد کر ایران منتقل کر دیا۔ یوں جو تخت کبھی مغلیہ عظمت کی پہچان تھا، وہی سلطنت کے زوال کی علامت بن گیا۔

1747ء میں نادر شاہ اپنے ہی حریفوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ اس کے بعد تختِ مور کا انجام بھی تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو گیا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ تخت کو بعد میں پگھلا دیا گیا اور اس کا سونا، جواہرات اور یاقوت مختلف ہاتھوں میں بٹ گئے۔ اس طرح دنیا کا ایک بے مثال شاہکار ہمیشہ کے لیے مٹ گیا، مگر اس کی داستان آج بھی مغلیہ سلطنت کے عروج و زوال کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button