
پیگاسس (Pegasus) بنانے والی کمپنی نے جاسوسی کے دعوؤں کو کیا مسترد کہا، رپورٹ بے بنیاد ہے ، ہمارا سافٹ ویئر جاسوسی کیلئے استعمال نہیں ہوتا
نئی دہلی ؍لندن ، 19جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دنیا کا سب سے خطرناک جاسوس سافٹ ویئر پیگاسس ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔مکمل ہوشیاری کے ساتھ پیگاسس کسی کی جاسوسی کرنے کے لئے بدنام ہے۔ 2019 میں پیگاسس واٹس ایپ کے کئی سارے #صارفین کے ٹریکنگ کی وجہ سے خبروں میں تھا،اب دو سال بعد پیگاسس ایک بار پھر 300 موبائل نمبروں کی جاسوسی کے لئے زیر بحث ہے۔ #اسرائیل کے #پیگاسس سافٹ ویئر کے ذریعہ ملک کے 300 کے قریب تصدیق شدہ موبائل نمبروں کی #جاسوسی کی اطلاع ملی ہے۔
ان میں حکومت میں شامل #وزرا ، نامور رہنماو، ممتاز #صحافی ، #وکیل ، حقوق انسانی کے کارکنان اور دیگرلوگوں کے نام شامل ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔ یہ رپورٹ دی گارڈین اور واشنگٹن پوسٹ سمیت 16 میڈیا تنظیموں کی مشترکہ تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے۔خیال رہے کہ اسرائیل کے این ایس او گروپ / کیو سائبر ٹیکنالوجی نے اس پاویئر کو تیار کیا ہے۔ پیگاسس کا دوسرا نام Q Suite بھی ہے۔ پیگاسس دنیا کا سب سے خطرناک جاسوس سافٹ ویئر ہے جو اینڈروئیڈ اور آئی او ایس ڈیوائس دونوں کی جاسوسی کرسکتا ہے۔
پیگاسس سافٹ ویئر کو صارف کی اجازت اوراطلاع کے بغیر بھی #فون پر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ایک بار #فون پر #انسٹال ہوجانے پر اسے آسانی سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ پیگاسس محض ایک مس #کال کے ذریعہ کسی فون پر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔یہ فون میں موجود اینڈ تو اینڈ انکرپٹڈ چیٹ بھی پڑھ سکتا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ واٹس ایپ اور ٹیلیگرام جیسے مشہور ایپس بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔
تاہم اس سلسلے میں سائبر انٹلیجنس کمپنی این ایس او گروپ کا میڈیا سے کہنا ہے کہ فاربیڈن اسٹوریز کی رپورٹ مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔ این ایس او کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ پیگاسس کے ذریعہ ہی 300 سے زیادہ موبائل نمبروں کی جاسوسی کی گئی ہے،یہ رپورٹ حقیقت سے دور ہے۔ این ایس او کامزید کہنا ہے کہ اس رپورٹ کو دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جن ذرائع سے یہ خبر شائع ہوئی ہے وہ مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔
اس گروپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کا سافٹ ویئر کبھی کسی کے کال فون سننے ، مانیٹرنگ اور ٹریک کرنے ،اورڈیٹا جمع کرنے کے مقصد سے استعمال نہیں ہوتا ہے۔ گروپ کے مطابق پیگاسس سافٹ ویئر منتخب ممالک کی قانونی ایجنسیوں کو دیا گیا ہے ،جس کا مقصد کسی کی جان بچانا اور ملک کی حفاظت کرنا ہے۔
جب این ایس او گروپ سے سوال کیا گیاکہ کیا اس نے ہندوستانی حکومت کو پیگاسس سافٹ ویئر دیا ہے ،تو اس کے جواب میں گروپ نے کہا کہ یہ خفیہ معلومات ہیں ، اورکمپنی کی پالیسی کے مطابق وہ اس خفیہ معلومات کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے۔



