نئی دہلی،یکم اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیگاسس جاسوسی کیس کی سماعت 5 اگست کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔ درخواست میں سپریم کورٹ کے موجودہ ؍ سابق جج سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ سینئر صحافیوں اینرام اور سشی کمار، سی پی ایم کے راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس اور وکیل ایم ایل شرما نے درخواستیں دائر کی ہیں۔
درخواستوں میں حکومتی اداروں کی جانب سے مخصوص شہریوں، سیاستدانوں اور صحافیوں پر اسرائیلی #اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعے مبینہ جاسوسی کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، جو صحافیوں کی طرف سے پیش ہوئے انہوں نے گزشتہ ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ درخواست کے وسیع تر اثرات کے پیش نظر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ جاسوسی #ایجنسیوں اور تنظیموں کی جانب سے #ہندوستان میں احتجاج کے آزاد اظہار کو دبانے اور حوصلہ شکنی کی کوششوں کی ایک علامت ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حکومت یا اس کی کسی ایجنسی نے پیگاسس سپائی ویئر کو لائسنس دیا ہے، اسے براہ راست یا بالواسطہ استعمال کیا ہے، اور اگر کوئی نگرانی کی گئی ہے تو مرکز کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسے ظاہر کرے۔ یہ مسئلہ شہریوں اور اپوزیشن لیڈروں، صحافیوں اور یہاں تک کہ عدالتی اہلکاروں کی آزادی کو متاثر کرنے والا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی میڈیا ایسوسی ایشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 300 سے زیادہ تصدیق شدہ ہندوستانی موبائل فون نمبر #اسرائیل کے #پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے نگرانی کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں رکھے گئے ہیں۔













