
جئے پور: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان ہائی کورٹ نے 2017 کے پہلو خان لنچنگ کیس Pehlu Khan lynching case کے ملزمین کو نئے سرے سے وارنٹ جاری کر دیا ہے۔ ان سبھی ملزمین کو الور کی ایک ذیلی عدالت نے 2019 میں بری کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے یہ وارنٹ پہلو خان کے بیٹوں کی اپیل پر جاری کیا ہے۔ پہلو خان کا اس وقت مبینہ گئو رکشکوں کی بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا، جب وہ اپنی گاڑی میں گایوں کو لے کر جا رہے تھے۔
راجستھان ہائی کورٹ کے جسٹس گووردھن بردھر اور جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے پہلو خان کے بیٹوں ارشاد اور عارف کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے پہلو خان کے بیٹوں کی عرضی کو راجستھان حکومت کی اس اپیل کے ساتھ بھی جوڑ دیا ہے جس میں اس معاملے میں الور کورٹ کے حکم کو چیلنج پیش کیا گیا ہے۔ اپیل میں پہلو خان کیس میں ویپن یادو، رویندر کمار، کالو رام، دیانند، یوگیش اور بھیم سنگھ ملزم تھے۔پہلو خان کے بیٹوں کی طرف سے داخل اپیل میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں کئی گواہ تھے جو خود زخمی تھے۔ اور انھوں نے ملزمین کے نام بتائے تھے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لنچنگ کے دوران پہلو خان کو سنگین چوٹیں آئی تھیں، انہی چوٹوں کے سبب ان کی موت ہوئی۔ ساتھ ہی اس لنچنگ کے دوران استعمال کیے گئے اسلحے بھی ملزمین کے پاس سے برآمد ہوئے تھے۔ اپیل میں ذیلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گواہوں کے بھروسے لائق بیانوں کے باوجود ذیلی عدالت نے اس کا نوٹس نہیں لیا اور ملزمین کو بری کر دیا۔



