بین الاقوامی خبریں

کینسر سے 14 سے 49 سال کے افراد سب سے زیادہ متاثر

اگر آپ کی عمر 14 سے 49 سال کی ہے تو ایک تازہ ریسرچ آپ کو صحت کے ایک بڑے خطرے سے الرٹ رکھنے میں مفید ہو سکتی ہے

لندن، 8ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اگر آپ کی عمر 14 سے 49 سال کی ہے تو ایک تازہ ریسرچ آپ کو صحت کے ایک بڑے خطرے سے الرٹ رکھنے میں مفید ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے204 ملکوں کے 29 مختلف اقسام کے کینسرز کے اعداد و شمار کے تجزئے سے ظاہر ہوا ہے کہ گزشتہ تیس سال میں دنیا بھر میں پچاس سال سے کم عمر کے لوگوں میں کینسر کی تشخیص کی شرح تقریباً 80 فیصد بڑھ گئی ہے۔اس اضافے کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2030 تک پچاس سال سے کم عمر کے لوگوں میں عالمی سطح پر کینسر میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد مزید 31 فیصد بڑھ سکتی ہے۔یہ ریسرچ بدھ کو جریدے ’بی ایم جے آن کولوجی‘ میں شائع ہوئی ہے۔

ریسرچ کے مطابق 1990 سے 2019 کے درمیان کینسر میں مبتلا افراد کی تعداد ایک اعشاریہ 82 ملین سے بڑھ کر 3 اعشاریہ 26 ملین ہو گئی تھی۔ریسرچ سے ظاہر ہوا ہے کہ 2019 میں کینسر سے پچاس سال سے کم عمر کیدس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئیجو 1990 کی شرح سے 28 فیصد زیادہ تھی۔یہ اضافہ کیوں ہوا یہ واضح نہیں ہوا ہے۔

اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں سے کچھ اضافہ آبادی میں اضافے سیمنسوب کیا جاسکتا ہے، تاہم سابق ریسرچ سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ 50 سال سے کم عمر کیلوگوں میں کینسر کی تشخیص عمومی طور پر بڑھ رہی ہے۔اس نئی ریسر چ کے محققین کی بین الاقوامی ٹیم نے کہا ہے کہ پچاس سال سے کم عمر کے اس گروپ میں ناقص غذا، تمباکو اور شراب نوشی، جینیاتی عوامل، جسمانی سر گرمی کے فقدان، اور موٹاپے کو کینسر کی وجوہات قرار دیا جا سکتا ہے۔لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ اب کینسر میں پچاس سال سے کم عمرکے افراد کیوں مبتلا ہو رہے ہیں۔ریسرچ کے مطابق بریسٹ،نرخرے، پھیپھڑوں، آنتوں اور معدے کے کینسر سیسب سے زیادہ اموات ہوئیں۔

گزشتہ تیس برسوں میں بریسٹ کینسر کے سب سے زیادہ مریض سامنے آئے تھے۔ لیکن جس کینسر میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا وہ ناک کے آخری اور حلق کے شروع کے حصے کے ملاپ کے مقام کا کینسر،نیزوفیرنکس کینسر اور پروسٹیٹ کینسر تھا۔ریسرچرز نے اپنی تحقیق میں2019 کی ریسرچ کے اعداد و شمار استعمال کرکے 204 ملکوں کے 29 مختلف اقسام کے کینسرز کی شرحوں کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ ادارہ دنیا بھر کے ملکوں میں وقت، عمر اور جنس کو مد نظر رکھ کر بیماریوں اور شرح اموات کا جائز ہ لیتا ہے۔ تاکہ دنیا بھر میں صحت کے نظاموں کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button