عوام فکر مند نہ ہوں ایرانی حملے سے دفاع کیلئے تیاریاں مکمل ہیں: نیتن یاہو
اسرائیل پر جوابی حملے کے سوا کوئی آپشن نہیں: ایران
مقبوضہ بیت المقدس، ۸؍جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے دشمنوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے اور فتح کے قریب پہنچ رہا ہے۔ جیسا کہ ہمارا ملک ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کے جواب کے لیے تیار ہے۔ نیتن یاہو بدھ کے روز تل ہاشومر فوجی تربیتی مرکز میں خطاب کر رہے تھے۔یہ فوجی تربیت کا مرکز تل ابیب میں واقع ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ‘ ہم اپنے دفاع کے لیے پختہ عزم کیے ہوئے ہیں۔ وہ بیروت میں حزب اللہ کمانڈر فواد شکر اور تہران میں حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کے تہران میں قتل کے بعد ایران اور حزب اللہ کے جوابی حملوں کی توقع کے پس منظر میں مظاطب تھے۔
نتین یاہو نے یہ جاننے کے باوجود کہ عوام پریشان ہیں نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں سے یہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلسل فتح کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ہم اپنے دشمنوں پرحملے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ اسرائیل کے شہری پریشان ہیں،لیکن میرا آپ سب سے یہ مطالبہ ہے آپ صبر کرتے رہیں اور پریشان نہ ہوں۔ متوقع حملوں سے فکر مند نہ ہوں ہم نے پوری تیاری کر رکھی ہے، ہم جارحیت کرنے کے لیے بھی تیار ہیں اور دفاع کے لیے تیار ہیں۔وزیر اعظم کے علاوہ حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ ہمارا ملک اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بلا شبہ ہر دو طرح سے دفاع کر سکتا ہے۔ ہمارے دشمنوں نے ہمارا ایک طریقہ دفاع دیکھ لیا ہے اور دوسرا طریقہ ابھی نہیں دیکھا ہے۔ترجمان نے مزید کہا ‘ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ایرانی خطرے سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔ ‘ واضح رہے اسرائیلی فوج اب تک غزہ کی جنگ میں 39677 فلسطینی شہید کر چکی ہے۔
ہم کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں: اسرائیلی آرمی چیف
مقبوضہ بیت المقدس، ۸؍جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گذشتہ ہفتے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے جواب میں ایران کی انتقام لینے کی دھمکیوں کے تناظر میں اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے زور دے کر کہا ہے کہ تل ابیب کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ تیز رفتار حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اسرائیلی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے تل نوف کے فوجی اڈے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ہم جان لیں گے کہ لبنان میں کہیں بھی، غزہ میں کہیں بھی، مشرق وسطیٰ میں کہیں بھی، زمین کے اوپر یا نیچے کیسے حملہ کرنا ہے کوئی مشکل نہیں۔انہوں نے اسماعیل ہنیہ کے جانشین منتخب ہونے والے یحییٰ السنوار کی تقرری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ السنوار کا نیا عہدہ ہمیں اس کی تلاش اور اسے قتل کرنے سے نہیں روکے گا۔
اسرائیلی آرمی چیف کا یہ بیان ایرانی میڈیا نے بتایا تھا کہ فضائیہ کے سربراہ علی رضا صباحی درد کی نگرانی میں ایرانی فوج نے مشرقی علاقے کے فضائی دفاعی مقامات اور پلیٹ فارمز ریڈار اور میزائل سسٹم اور مقامی ڈرونز کو تیار کرلیا ہے۔لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے منگل کے روز ایک بار پھر زور دیا تھا کہ وہ اپنے رہنما فواد شکر اور ھنیہ کے قتل پر چپ نہیں رہے گی اور اسرائیل سیاس کا بدلہ ضرور لے گی۔
اسرائیل پر جوابی حملے کے سوا کوئی آپشن نہیں: ایران
ایران کی طرف سے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کوئی اور آپشن ہی باقی نہیں رہے، سوائے اس کے اسرائیل کو جواب دے۔ایرانی وزیر خارجہ علی باقری نے یہ بات او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اس معاملے پر بحث کے دوران کہی ہے۔ علی باقری کا کہنا تھا کہ اقوام محدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اس حوالے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا جا سکا کہ اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت میں جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔واضح رہے او آئی سی 57 مسلمان ملکوں کی مشترکہ فورم ہے۔
ان 57 ملکوں میں تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال عرب کے علاوہ پاکستان ایسا جوہری ملک بھی اس فورم کا رکن ہے۔او آئی سی کا رواں اجلاس ایرانی درخواست پر جدہ میں بلایا گیا تھا۔ تاکہ تہران میں حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لے سکے۔ اس حملے کی اسرائیل نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن عمومی طور پر ہر جگہ یہی احساس ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل ہی کی ہے۔علی باقری نے کہ اسرائیل کو جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کو آئندہ ایسی جرات نہ ہو سکے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر حملہ کرنے سے باز رہے۔وزیر خارجہ ایران نے یہ بھی کہا کہ امریکی اشیر باد اور انٹیلی جنس مدد کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا۔ اس لیے تہران پر اس حملے کی ذمہ داری میں امریکہ کے ملوث ہونے کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی صدر کا ایران سے اسرائیل سے انتقام نہ لینے پر زور
پیرس ، ۸؍جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے فون پر بات کرتے ہوئے ان سے کشیدگی سے بچنے اور انتقام کے چکروں میں نہ پڑنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی سے بچنے کے لیے اپنی ہرممکن کوشش کریں۔ انتقام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ایلیسی پیلس کی جانب سے پریس کو جاری ایک بیان کے مطابق صدر میکروں نے کہا کہ ایران کو اپنی وفادار ملیشیاؤں پر پر زور دینا چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ صورت حال کو ہوا دینے سے بچا جا سکے۔میکروں نے زور دیا کہ خطے میں امن اور سلامتی لانے اور اعتماد سازی کے لیے پیرس ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ اس حوالے سے ایران کی جانب سے بھی تعاون درکار ہے۔ایران کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے۔
اس سے قبل بدھ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کے ساتھ ایک فون کال میں کہا کہ ان کا ملک اپنے مفادات اور سلامتی پر حملوں کے بارے میں خاموش نہیں رہے گا اور بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق کارروائی کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تہران اسرائیل کو مناسب جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس نے ہمارے مہمان کو ہماری سرزمین پرقتل کیا ہے اور یہ معمولی بات نہیں۔درایں اثنا ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف نے ایک بار پھر اسرائیل کو دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کا جواب ناگزیر ہے اور اسرائیلی قتل و غارت پرخاموش نہیں رہیں گے۔گذشتہ ہفتے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل اور بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی حزب اللہ کے ممتاز فوجی کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
نیتن یاہو کی لاپروائی کے حوالے سے امریکی تشویش، ایران دھمکیوں سے مکر سکتا ہے
نیویارک، ۸؍جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مشرق وسطیٰ کے خطے کو ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آنے سے روکنے کے لیے امریکی کوششیں جاری ہیں۔ ادھر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا قوی امکان ہے۔ ایران نے 31 جولائی کو ہنیہ کی موت کا ذمے دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔امریکی حلقے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حوالے سے اندیشوں کا شکار ہیں جو اس موقع پر کوئی انتہائی اقدام اٹھا کر واقعتا خطے میں وسیع جنگ کا شعلہ بھڑکا سکتے ہیں۔ امریکا کو ایرانی جوابی کارروائی سے زیادہ نیتن یاہو کی لاپروائی کے حوالے سے زیادہ تشویش ہے جو ایران کے حملے کی صورت میں اسرائیل کی جانب سے سامنے آ سکتی ہے۔ یہ بات با خبر امریکی ذرائع نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتائی۔ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض ایرانی ذمے داران نے بالواسطہ طور پر امریکی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا جواب سوچ سمجھ کر نہایت درست طور پر دیا جائے گا۔
ایک با خبر امریکی ذمے دار نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ ایران تل ابیب کے خلاف شدید جوابی کارروائی کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ جائے گا بالخصوص جب کہ امریکا خطے میں عسکری طور پر متحرک ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ سیاسی اور سفارتی کوششیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔دوسری جانب لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ مزاحمتی محور یعنی ایران کے دائرہ کار میں سرگرم مسلح گروپوں نے تہران اور دمشق کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ایران اور شام اسرائیل کے ساتھ وسیع جنگ میں شامل ہوں۔ البتہ یہ گروپ دونوں ملکوں سے محض مادی، سیاسی اور ٹکنالوجی کے حوالے سے سپورٹ طلب کرتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں نے اس موقف کو ایران کے متوقع جوابی حملے سے رجوع کی جانب اشارہ خیال کیا ہے۔
حسن نصر اللہ نے باور کرایا کہ حزب اللہ اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی لا محالہ ہونی ہے۔ تاہم حزب اللہ کے سربراہ نے اس کا طریقہ کار اور وقت متعین نہیں کیا۔ نصر اللہ کے مطابق اس جوابی کارروائی میں تاخیر اسرائیلیوں کے اعصاب کے ساتھ کھیلنے کی ایک شکل ہے بالخصوص جب کہ اسرائیلی افواج ایک ہفتے سے انتہائی چوکس حالت میں ہیں۔نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی ایران کے ہمنوا دیگر مسلح گروپوں کے ساتھ مشترکہ طور پر بیک وقت ہو سکتی ہے یا پھر علاحدہ طور سے بھی انجام دی جا سکتی ہے۔اس دوران میں بعض اسرائیلی حلقوں نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ ایران سے پہلے حزب اللہ کی جانب سے انتقامی کارروائی متوقع ہے۔



