روم:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک طویل اور محتاط تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ باقاعدگی سے مرچیں کھانے والے لوگوں میں دل کے دورے، رگوں کی سوجن اور فالج جیسے امراض کے باعث مرنے کی شرح ایسے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتی ہے جو مرچوں کا استعمال بالکل بھی نہیں کرتے یا بہت کم کرتے ہیں۔
مطالعے کے دوران تمام رضاکاروں کے رہن سہن اور کھانے پینے سے متعلق معمولات پر گہری نظر رکھی گئی اور ان سے مختلف مواقع پر سوال نامے بھروائے جاتے رہے جن میں ان سے خاص طور پر کھانے میں مرچوں کے استعمال کے بارے میں پوچھا جاتا۔ مطالعے کے اختتام پر معلوم ہوا کہ ہفتے میں کم سے کم چار مرتبہ مرچیں کھانے والے لوگوں میں مرچیں نہ کھانے والے افراد کی نسبت دل کے دورے سے مرنے کا امکان 44 فیصد کم تھا، جبکہ رگوں کی سوجن یا فالج سے اموات کی شرح 61 فیصد تک کم نوٹ کی گئی۔
البتہ، اس مطالعے کی سربراہ ڈاکٹر ماریالورا بوناکیو نے خبردار کیا کہ ان نتائج کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ مرچیں کھانے سے فالج یا دل کے دورے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، بلکہ ان کی وجہ سے ہونے والی اموات میں کمی آتی ہے۔ وہ پوڈزیلی، اٹلی میں نیورومیڈ میڈیٹیرینیئن نیورولوجیکل انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔
قبل ازیں ایسے ہی دو مطالعات امریکہ اور چین میں ہوچکے ہیں جن میں باقاعدگی سے مرچیں کھانے کے کم و بیش یہی اثرات سامنے آئے تھے۔ مذکورہ مطالعے سے معلوم ہوا کہ یورپی اقوام کو بھی مرچوں کے باقاعدہ استعمال سے وہ تمام فوائد حاصل ہوتے ہیں جو امریکیوں اور چینیوں کو حاصل ہورہے ہیں۔مرچیں سرخ ہوں یا لال، تتیّا مرچ ہو یا شملہ مرچ، یہ بات بہرحال طے ہے کہ ان کی معمولی مقدار ہی ہماری روزمرہ غذا میں شامل ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ مرچوں کے طبّی فوائد پڑھ کر روزانہ وافر مقدار میں مرچیں کھانا شروع کردی جائیں۔ ایسا کرنا بہرحال صحت کیلیے مفید نہیں ہوگا۔



