
نئی دہلی،29؍اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ جن لوگوں کو کورونا ویکسین (COVAXIN ) لگ چکی ہے انہیں Covishield کا ٹیکہ لگانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کیسی پٹیشن ہے؟ درخواست کی سماعت کرنے والے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ہم لوگوں کی زندگیوں سے اس طرح نہیں کھیل سکتے ہیں۔
جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ خبروں سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان بائیوٹیک نے ڈبلیو ایچ او میں اپنی نمائندگی کی ہے۔ اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا لیکن تب تک ڈبلیو ایچ او کے فیصلے کا انتظار کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسی درخواستوں میں مداخلت کرنا خطرناک ہے۔
حالات کو دیکھنا بہتر ہے کہ کیا ہو رہا ہے؟ معاملے کی سماعت دیوالی کے بعد ہوگی۔دراصل کارتک سیٹھ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ہر روز ایسے طلباء اور لوگ آتے ہیں جو بیرون ملک سفر کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے کیونکہ W-H-O نے ابھی تک COVAXIN کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ COVAXIN کے ساتھ مکمل طور پر ٹیکہ لگنے کے بعد کسی شخص کو Cowin پر رجسٹر کر کے Covishield کے ساتھ ٹیکہ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس پر جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہاکہ آپ ڈبلیو ایچ او کے ڈیٹا کے کیسے حقدار ہیں؟ ہم لوگوں کی زندگیوں سے اس طرح نہیں کھیل سکتے، یہ کیا ہے؟
اس طرح کی چیزیں اکثر مقابلہ کے ذریعہ بھی کی جاتی ہیں۔ اخبارات ہمیں بتارہے ہیں کہ ہندوستان بائیوٹیک نے ڈبلیو ایچ او کو منظوری کے لیے کہا ہے اور اس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او کی منظوری کا انتظار کریں۔



