پیٹھا
عربی میں محدبہ فارسی میں کدوئے رومی بنگالی میں کمڈا سندھی میں پیٹھو گجراتی میں بھوردں کولوں۔
دیگرنام: عربی میں محدبہ فارسی میں کدوئے رومی بنگالی میں کمڈا سندھی میں پیٹھو گجراتی میں بھوردں کولوں۔
ماہیت: مشہور عام ہے کہ یہ حلوہ کدو کے مشایہ ہوتا ہے۔
رنگ: باہر سے سبز اندر سے سفید
ذائقہ: پھیکا۔مغز سفید قدرے شیریں ہوتا ہے۔
مزاج: سر تر درجہ دوم۔
افعال: مفرح و مقوی قلب۔مسکن حرارت مرطوب مدربول۔
استعمال: اس کی مٹھائی بنائی جاتی ہے۔جو مقوی بدن اور مفرح قلب ہوتی ہے۔خلث صالح پیدا کرتا ہے۔مسکن حرارت ہے۔
خفقان گرم کو مفید ہے۔ مولد منی ہے اور بدن کو فربہ کرتا ہے۔ سل و دق کو نافع ہے۔ پیتھا کا مریہ دل اور دماغ کو قوت دیتا ہے۔ مغز تخم پیٹھا مرطوب اور مسکن اور مبرد ہے۔پیشاب کی سوزش رفع کرنے اور صفراو خون کے جوش کو تسکین دینے کیلئے اس کے تخموں کا مغز تنہا یا مناسب ادویہ کے ہمراہ پیس کر چھان کر بطور تیرید پلاتے ہیں۔اس کے مغز کا تیل دماغ کی خشکی اور بے خوابی کو مفید ہے تمام افعال میں پھل کے مطابق ہے بلکہ اس سے قوہ تر ہے۔مغز تخم پیٹھا دو گرام تھوڑے سے شہد میں ملاکر بچوں کو کھلا کر بعد میں تخم ارنڈ کا تیل پلانا کدودانہ کا بے ضررعلاج ہے۔
نفع خاص: مسکن جوش خون و صفرا۔
مضر: سرد مزاجوں کیلئے۔ مصلح: بادیان اور فلفل سیاہ۔
بدل: لوکی۔
مقدار خوراک: مغز تخم پیٹھا پانچ سے سات گرام مٹھائی بقدر ہضم۔
مشہور مرکبات: معجون حمل عنبری۔٭



