قومی خبریں

مسلم شوہر کے ذریعہ بیوی کو طلاق دینے کے یکطرفہ حق کو چیلنج دینے والی درخواست خارج

نئی دہلی، 27 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی ہائی کورٹ نے مسلم شوہر کے ذریعہ اپنی بیوی کو کسی بھی وقت، بلا وجہ اور بغیر پیشگی اطلاع دئے طلاق(طلاق سنت) دینے کے یکطرفہ حق کو چیلنج دینے والی درخواست یہ کہتے ہوئے خارج کردی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی اس حوالے سے قانون پاس کرچکی ہے۔جسٹس وپن سنگھی اور جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے کہاکہ ہمیں یہ پٹیشن قابل عمل نہیں لگتی کیونکہ پارلیمنٹ پہلے ہی مداخلت کرچکی ہے اور مذکورہ ایکٹ مسلم خواتین (تحفظ حقوق شادی ) ایکٹ، 2019 کو پاس کر چکی ہے۔

بنچ نے کہا کہ درخواست گزار خاتون کو خدشہ ہے کہ اس کا شوہر طلاق السنت کا سہارا لے کر اسے طلاق دے دے گا۔ اس نے کہاکہ ہمارے خیال میں یہ درخواست مسلم خواتین (شادی پر حقوق کا تحفظ) ایکٹ، 2019 اور خاص طور پر اس کے سیکشن 3 کے نفاذ کے پیش نظر مکمل طور پر غلط ہے۔ایکٹ کے سیکشن 3 کے مطابق ایک مسلمان شوہر کے لیے تحریری یا زبانی طور پر یا الیکٹرانک شکل میں یا کسی دوسرے طریقے سے اپنی بیوی کو ’طلاق‘ دینے کیلئے کوئی اعلان کرنا غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار خاتون نے درخواست میں کہا کہ یہ عمل من مانی، شریعت مخالف، غیر آئینی اور وحشیانہ ہے۔ درخواست میں زور دیا گیا تھا کہ شوہر کے کسی بھی وقت اپنی بیوی کو طلاق دینے کے حق کو غیرآئینی اقدام قرار دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button