نئی دہلی، 15جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں وارانسی میں گیان واپی مسجد کے مقام پر برآمد کئے گئے نام نہاد’ شیولنگ ‘کیلئے ہندو انہ مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شری کرشنا جنم بھومی مکتی دل کے صدر راجیش منی ترپاٹھی نے ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ شراون کا مہینہ شروع ہو رہا ہے، اس لیے ہندوؤں کو شیولنگ کی پوجا اور رسومات ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ایودھیا مندر کیس کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایک بار دیوتا، ہمیشہ ایک دیوتا ہوتا ہے اور جب اسے منہدم کیا جاتا ہے تو مندر اپنے کردار، تقدس یا وقار سے محروم نہیں ہوتا ہے۔سروے کے بعد اس احاطے میں شیولنگ بھی پایا گیا ہے، اس لیے پجاری ہونے کے ناطے اگر شیولنگ ہو تو اس کی پوجا کرنے کا حق بھی بچ جاتا ہے۔



